زنادقہ - زَنادِقَةٌ

زندقہ: بظاہر مسلمان ہونے کا دعوی کرنا اور اسلام کے ارکان جیسے نماز، روزہ اور حج وغیرہ پر عمل کرنا، لیکن دل کے اندر کفر چھپائے رکھنا۔ چاہے کفر الحاد کی صورت میں ہو، فارسی مجوسیت کے عقیدے کی شکل میں ہو، دہریت کے روپ میں ہو یا کسی اور شکل میں۔ اسی طرح چاہے زندیق باطنی اعتبار سے یہودی ہو، نصرانی ہو، مشرک ہو یا بت پرست ہو۔ نیز چاہے ملحد خالق اور نبوت دونوں کا انکار کرتا ہو یا صرف نبوت کا انکار کرتا ہو یا صرف ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت کا انکار کرتا ہو۔

میں ترجمہ: اردو انڈونیشیائی زبان

صابی فرقہ - صابِئَةٌ

صابی فرقے کی تعریف کے بارے میں اہلِ علم کا اختلاف ہے اور اس کی حقیقت کے بیان کے سلسلے میں ان کے متعدد اقوال موجود ہیں، جن میں سے کچھ حسبِ ذیل ہیں: 1- یہ نوح علیہ السلام کے مذہب کو ماننے والا ایک گروہ تھا۔ 2- یہ نصرانیوں کا ایک گروہ تھا، جو ان کے مقابلے میں کچھ زیادہ نرم گو تھا۔ 3- یہ ایک ایسا گروہ تھا، جس کا دین یہودیت اور نصرانیت کی آمیزش سے بنا تھا۔ 4- یہ یہود و نصاری کے بیچ کا ایک فرقہ تھا۔ 5- یہ ایسی قوم تھی، جو فرشتوں کی پرستش کرتی تھی، قبلہ رو ہو کر نماز پڑھتی تھی، زبور کی تلاوت کرتی تھی اور پانچ وقت کی نمازیں ادا کرتی تھی۔ 6- ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ایسی قوم تھی جو ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کہتی تھی، لیکن نہ کچھ مخصوص اعمال کرتی تھی، نہ کتاب رکھتی تھی اور نہ کسی نبی پر اس کا ایمان تھا۔ 7- صابئہ کے دو نمایاں فرقے ہیں، مگر نام میں یکسانیت کے باوجود وہ ایک دوسرے میں داخل نہیں ہیں۔ دونوں فرقے کچھ اس طرح ہیں: أ- حرّانی صابئہ: یہ نصاری سے بھی قدیم ترین قوم ہے، جو ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں پائی جاتی تھی۔ یہ سات ستاروں کی پرستش کرتی تھی، ان کے اندر تاثیر کا عقیدہ رکھتی تھی اور یہ سمجھتی تھی کہ فلک ایک زندہ اور قوت گویائی کی حامل چیز ہے۔ ب- اہلِ کتاب کا ایک گروہ جو نصاری سے قدرے مشابہت رکھتی ہے۔ یہ بہت سے دینی امور میں نصاری سے الگ ہیں اور نصاری انھیں ’یوحانسیہ‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ علامہ ابن تیمیہ نے ایک تیسرے فرقے کا اضافہ کیا ہے، جو تورات اور انجیل سے پہلے موجود تھا اور جو توحید پرست تھا۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی اللہ تعالی نے اپنے اس قول کے ذریعہ ستائش کی ہے : {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآْخِرِ وَعَمِل صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ} (مسلمان ہوں، یہودی ہوں، نصاریٰ ہوں یا صابی ہوں، جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ﻻئے اور نیک عمل کرے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ اداسی۔) [البقرة : 62].

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

اہلِ کتاب - كِتابِيُّون

کفار کی تین قسمیں ہیں: 1- اہلِ کتاب: ان سے مراد یہود و نصاریٰ اور ان کے مختلف فرقوں کے وہ افراد ہیں جو دین کی بنیادی باتوں میں ان کے موافق ہوں۔ خواہ اس طرح کا کوئی آدمی حربی ہو یا عرب یا عجم سے تعلق رکھنے والا ذمی ہو۔ خواہ اس کے والدین کتابی ہوں، دونوں غیر کتابی ہوں یا دونوں میں سے ایک کتابی ہو اور دوسرا غیر کتابی۔ 2- وہ لوگ، جن کے بارے میں شبہ ہو کہ ان کو آسمانی کتاب ملی تھی یا نہیں؟ اس سے مراد مجوسی ہیں۔ 3- وہ لوگ، جن کے پاس نہ کوئی (آسمانی) کتاب ہو، نہ ان کے پاس کتاب ہونے کا کوئی شبہ ہو۔ اس میں پہلی دونوں قسموں کے علاوہ باقی لوگ شامل ہیں۔ اس قسم میں بتوں کے پجاری، منافقین اور زنادقہ وغیرہ آتے ہیں۔ یہودی سےمراد ہر وہ شخص ہے، جس کا دین تحریف شدہ یہودیت ہو، جو سیدنا موسی علیہ السلام کی طرف منسوب ہے۔ ان کے بہت سے فرقے پائے جاتے ہیں، جن میں فریسی، صدوقی اور سامری وغیرہ شامل ہیں۔ جب کہ نصرانی (عیسائی) سے مراد وہ شخص ہے، جس کا دین تحریف شدہ عیسائیت و مسیحیت ہو، جو سیدنا عیسی علیہ السلام کی طرف منسوب ہے۔ ان کے بھی بہت سے فرقے ہیں، جن میں ملکانیہ، نسطوریہ اور یعقوبیہ وغیرہ شامل ہیں۔ بعض علما نے شرط لگائی ہے کہ کتابی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے عقیدے اور اپنے دین کے احکام کی پابندی کرتا ہو۔ لہذا اگر وہ اس کا دانستہ طور پر انکار کردے اور بے دینی اختیار کرلے تو وہ کتابی شمار نہیں ہوگا۔ جیسا کہ ہمارے دور کے ان ملحدین کا طرز عمل دیکھنے کو ملتا ہے، جو اپنے آپ کو عیسائیت کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

مجوس - مَجُوسٌ

مجوسیت: مجوسیت ایک بہت قدیم مذہب ہے، جو تاروں اور آگ کی تقدیس پر قائم ہے۔ اس مذہب کی تجدید، اسے پھیلانے اور اس میں اضافے کرنے کا کام زردشت نے کیا تھا۔ اس مذہب کے مطابق دو بنیادی چیزیں ہیں۔ ایک نور اور دوسری ظلمت۔ ان کا عقیدہ ہے کہ خیر نور کا فعل ہے اور شر ظلمت کا فعل ہے۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

اِباضیہ - إباضية

’اباضیہ‘ خوارج کے مشہور فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے، جو اپنے بانی عبداللہ بن اباض تمیمی کی طرف منسوب ہے۔ ان کے اہم عقائد درج ذیل ہیں: 1۔ صفاتِ الہیہ کی تعطیل: ان میں سے بعض ’جہمیہ‘ کے مانند تشبیہ کے خوف سے صفات کی بالکل ہی نفی کرتے ہیں، اور بعض تمام صفات کو ذات کی طرف لوٹاتے ہیں۔ چنانچہ ان کے نزدیک صفات عینِ ذات ہیں۔ 2۔ آخرت میں مؤمنوں کے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا انکار کرتے ہیں۔ 3۔ خلقِ قرآن کے قائل ہیں۔ 4۔ عذابِ قبر ، میزان، پل صراط اور دیگر امورِ آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ 5۔ گناہ گار مسلمانوں کے لیے شفاعت کا انکار کرتے ہیں۔ 6۔ اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب کافر ہے، تاہم اس کا کفر یا تو ’کفران نعمت‘ ہے یا ’کفر نفاق ‘ہے۔ یہ کفر وہ نہیں جو ملت اسلام سے خارج کر دیتا ہے اور نہ ہی وہ ایسے شخص کو مشرک کہتے ہیں۔ اگر ایسا شخص توبہ کیے بغیر مر جائے، تو وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں ہو گا۔ 7۔ اپنے مخالف اہل سنت کے ساتھ تقیہ کرنے کے قائل ہیں۔ 8۔ گناہ گار حکمرانوں کے خلاف مسلح خروج کے بھی قائل ہیں۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

اشاعرہ - أشاعرة

اشاعرہ: اسلام کی طرف منسوب ایک فرقہ، جو اپنے عقائد کو ثابت کرنے اور مخالفین کا رد کرنے کے معاملے میں اہلِ کلام کا اسلوب اختیار کرتا ہے۔ یہ فرقہ ابو الحسن علی بن اسماعیل اشعری (وفات: 324ھ) کی طرف منسوب ہے۔ اس کا ظہور چوتھی صدی اور اس کے بعد ہوا۔ شروعات میں اشعری اعتزال کے قائل تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے کلام، اس کی اختیاری صفات اور قدر کے مسئلے میں ابن کُلاّب سے متاثر ہوا۔ پھر اشاعرہ کے عقیدہ نے ترقی کرتے ہوئے عقلی، کلامی اور صوفیانہ مناہج میں گہرائی اور توسع اختیار کیا، یہاں تک کہ آٹھویں صدی میں ایک عقلیاتی، فلسفیانہ مرجی جبری فرقہ بن گیا۔ ’اشعری‘ اپنے عقیدے میں تین مراحل سے گزرے: 1- اعتزال کا مرحلہ، جسے انھوں نے ابو علی الجبّائی سے اخذ کیا جو اپنے دور میں معتزلہ کا سربراہ تھا۔ ابوالحسن اشعری چالیس سال تک اسی مذہب پر قائم رہے۔ 2- اعتزال سے براءت اور عبد اللہ بن سعید بن کُلاب کے طریقے کی پیروی کا مرحلہ، جس سے متاثر ہوکر اشعری نے صفاتِ عقلیہ کا اثبات اور صفاتِ فعلیہ کا انکار کیا۔ یہی وہ موقف ہے جس پر ان کے پیرو کاربند رہے۔ 3- مجموعی طور پر ابوالحسن اشعری کا منہج سلف کی طرف رجوع اور تمام صفات کو بغیر کسی تحریف اور تاویل کے ثابت ماننے کا مرحلہ۔ ’اشاعرہ‘ کے کچھ اہم عقائد اس طرح ہیں: 1- تعارض کے وقت قرآن و سنت پر عقل کو ترجیح دینا۔ 2- عقائد میں احادیث آحاد کو نہ لینا، اس لیے کہ یہ ان کے ہاں علم کا فائدہ نہیں دیتیں۔ 3- توحید کو صرف توحیدِ ربوبیّت اور اس کے ساتھ تثنیہ، تعدد، ترکیب اور جز بنانے کی نفی میں منحصر کرنا۔ اسی وجہ سے انھوں نے لفظِ الٰہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مراد وہ ذات ہے جو اختراع پر قادر ہو۔ 4- ایمان کو تصدیقِ قلبی میں محدود کر کے اعضا وجوارح سے کیے جانے والے اعمال کو ایمان سے خارج کر دینا۔ 5- ’اشاعرہ‘ کے ہاں قرآن مخلوق ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی کلام نہیں، بلکہ کلام اللہ سے عبارت ہے۔ 6- تقدیر کے باب میں جبر کا قائل ہوکر یہ کہنا کہ اعمال کے واقع ہونے میں بندے کی قدرت کا کوئی اثر نہیں ہے۔ 7- اللہ تعالیٰ کے افعال میں حکمت اور علت ہونے کی مطلقاً نفی کرنا۔ 8- مکلف کا پہلا فریضہ اس بات کی گواہی دینا نہیں ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہيں ہے، بلکہ غور و فکر یا شک کرنا ہے۔ 9- ظلم کے معنی کسی چیز کو اس کے اصل مقام سے ہٹاکر دوسری جگہ رکھنے کے نہیں، بلکہ اس چیز میں تصرف کرنے کے ہیں، جو آدمی کی ملکیت میں نہ ہو۔ اسی معنی کی رو سے کافر کو جنت اور مؤمن کو جہنم میں داخل کرنا جائز ہے۔ 10- صرف سات صفات کو ثابت کرنا اور اللہ تعالی کی ذات کے ساتھ قائم اختیاری صفات جیسے’استواء‘، ’نزول‘، ’کلام‘ اور ’غصہ‘ کی نفی کرنا۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

اہلِ کلام - أهل الكلام

’اہلِ کلام‘ ایسا لقب ہے، جس کا اطلاق اس امت کے بہت سارے گروہوں پر ہوتا ہے، جنھوں نے عقائد کے اثبات اور اس کے بارے میں مخالفین کی تردید کے لیے عقلی طریقے اور فلسفیانہ نظریات وضع کر لیے اور انھیں اختیار کرکے قرآن وسنت کے دلائل سے اعراض کیا۔ ’علمِ کلام‘ سے مراد وہ علم ہے، جس کی بنیاد عقائد کے اثبات میں باطل عقلی اور فاسد فلسفیانہ دلائل پر ہوتی ہے۔ ’اہلِ کلام‘ کا ظہور بصرہ میں عہدِ تابعین کے اواخر میں ہوا۔ ان کو’اہلِ کلام‘ اس لیے کہتے ہیں کہ دین میں واقع ہونے والا سب سے پہلا اختلاف اللہ تعالیٰ کے کلام کے بارے میں ہوا تھا کہ آیا یہ مخلوق ہے یا غیرِ مخلوق؟ چنانچہ لوگوں نے اس بارے میں بہت کلام اور بحث و مباحثہ کیا، اسی وجہ سے ان میں شامل ہونے والوں کو ’اہلِ کلام‘ کہا جانے لگا۔ بعض نے اس کی وجہ تسمیہ یہ بتائی ہے کہ ان لوگوں نے عقیدے کے مسائل جیسے اللہ تعالیٰ کی صفات اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے وغیرہ کے بارے میں قرآن و سنت سے استدلال کی بجائے عقلی دلائل سے خوب بحث ومباحثہ کیا، اس لیے (کثرت کلام کے باعث) ان کو’اہلِ کلام‘ کہا جانے لگا۔ ’اہلِ کلام‘ بہت زیادہ ہیں اور وہ سب ایک طرح کے نہیں ہیں۔ اس کے مفہوم میں بہت سارے گروہ شامل ہیں، جیسے جہمیّہ جو جہم بن صفوان کے پیروکار ہیں، معتزلہ جو عَمرو بن عبید اور واصل بن عطاء کے پیروکار ہیں اور اشاعرہ جو ابو الحسن اشعری کے پروکار ہیں وغیرہ۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

ثنویت - ثنوية

ثنویت: مجوسیوں وغیرہ کا ایک گروہ، جو کہتا ہے کہ کائنات کی تخلیق دو اصل چیزوں یعنی نور اور ظلمت سے ہوئی ہے اور یہ دونوں چیزیں ازلی اور قدیم ہیں۔ اپنی ذات اور شکل کے اعتبار سے یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور عمل و تدبیر میں ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہیں۔ ان کے نزدیک ’نور‘ اچھائی کا خدا ہے اور ’ظلمت‘ برائی کا خدا ہے۔ ’ثنویت‘ کا کائنات کے دو خدا ہونے کا نظریہ واضح طور پر فاسد ہے، جسے فطرت اور عقلِ سلیم مسترد کرتی ہیں۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

سلفیت - سلفية

سلفیت: یہ سلف یعنی صحابہ کرام، تابعین اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے ایسے ائمہ کی جانب نسبت ہے، جن کی اقتدا کی جاتی ہے، جن کے ظاہری و باطنی دین داری، پرہیزگاری اور تقوی کی گواہی دی گئی ہے، دینی مقام و مرتبے کو تسلیم کیا گیا ہے اور لوگ نسل در نسل ان کا کلام قبول کرتے آئے ہیں اور اس پر عمل کرتے آئے ہیں۔ اس میں خوارج، روافض، قدریہ، مرجئہ، جبریہ، جہمیہ، معتزلہ، تصوف پرست اور متکلمین جیسے وہ گمراہ فرقے شامل نہیں ہیں، جن کے دامن میں بدعت کے چھینٹے ہیں یا جو کسی ناپسندیدہ لقب سے مشہور ہیں اور ساتھ ہی انھوں نے اہل سنت و جماعت کی مخالفت کی ہے، جو دراصل اس امت کے ایسے فقہا اور علما کا گروہ ہے، جو دینی معاملوں میں اسوہ اور قدوہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سلفیت کی کچھ نمایاں امتیازی خصوصیات اس طرح ہیں: منہج نقل پر کاربند رہنا۔ اسی وجہ سے آغاز میں یہ 'أهل الحديث' کے نام سے معروف ہوئے، تاکہ ان کے مابین اور روافض، معتزلہ اور خوارج جیسے ان فرقوں کے مابین فرق ملحوظ رہے، جو اس منہج کو چھوڑ بیٹھے تھے۔ انھیں 'أهل الأثر' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ نصوص کو سمجھنے کے معاملے میں سلف صالح کی طرف رجوع کرتے ہیں، جو زیادہ دقیق فہم کے مالک، صاف ذہن کے حامل، سنت کے سچے پیروکار، دین پر چلنے والے، گہرے علم کے مالک، تکلفات سے دو اور مشکاۃِ نبوت سے قریب تر لوگ تھے۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

قادیانیت - قاديانية

قادیانیت: خبیث باطنی فرقوں میں سے ایک فرقہ، جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس فرقے کا ظہور انیسویں صدی عیسوی کے آخر میں ہندوستان میں انگریزوں کی منصوبہ بندی سے ہوا۔ اس کا ہدف یہ تھا کہ مسلمانوں کو ان کے دین سے اور خاص طور پر فریضۂ جہاد سے برگشتہ کیا جاسکے۔ اس فرقے کو ہندوستان اور پاکستان میں قاديانيت كا نام ديا جاتا ہے، افريقہ اور ان ملکوں میں جہاں یہ جنگ کرنے کے لیے گئے، وہاں انھوں نے اپنے آپ کو احمدیہ کا نام دیا۔ ان کے کچھ عقائد اس طرح ہیں: 1۔ ختم نبوت کا انکار کرنا اور جن دلائل میں ختم نبوت کا ذکر ہے ان کی تاویل کرنا۔ 2۔ غلام احمد مہدی اور نبی ہے، جو محمد ﷺ کی شریعت کی تایید کرتا ہے اور وہ مسیح موعود بھی ہے۔ 3۔ وحی کا دروازہ لوگوں کے لیے کھلا ہوا ہے۔ چنانچہ غلام احمد پر وحی نازل ہوئی اور اس کے بعض پیروکاروں نے اسے سنا بھی۔ 4۔ جہاد کو حرام قرار دینا اور انگریز حکمرانوں کی اطاعت کی دعوت دینا۔ 5۔ قادیان اور اس کی مسجد، مکہ اور اس میں واقع مسجد حرام کی طرح ہے اور اس کا حج کرنا مکہ کے حج کرنے کی طرح ہے۔ اس طرح قادیان تیسرا مقدس مقام ہے۔ 6۔ جو مسلمان غلام احمد کی تصدیق نہیں کرتے، ان کی تکفیر کرنا۔ 7۔ اسے اور اس کے پیروکاروں کو تمام انبیا اور ان کے پیروکاروں پر فضیلت دینا۔ 8۔ اللہ تعالی کو بشر کے ساتھ تشبیہ دینا۔ اللہ کی ذات اس سے بلند وبالا ہے۔ 9۔ تناسخ اور حلول کے عقیدہ پر ایمان رکھنا۔ اس کے علاوہ بھی ان کے بہت سے باطل عقائد ہیں۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

مرجئہ - مرجئة

’مرجئہ‘ اسلام کے فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے، جس کا یہ عقیدہ ہے کہ ایمان کے ہوتے ہوئے معصیت اور نافرمانی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی، جس طرح کفر کے ساتھ طاعت وفرماں برداری فائدہ نہیں دیتی۔ ساتھ ہی یہ کہ عمل ایمان کے مسمی سے خارج ہے۔ انھیں دو وجوہات کی وجہ سے ’مرجئہ‘ کا نام دیا گیا: پہلی وجہ: یہ عمل کو نیت اور ارادے سے مؤخر (جدا) جانتے ہیں۔ دوسری وجہ: یہ گناہ گار مؤمن کو اللہ کی بخشش کی امید دلاتے ہیں۔ ایمان کے مفہوم کی تعریف کے سلسلے میں یہ درج فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں: 1۔ جہمیہ: يہ جہم بن صفوان کے پیروکار ہیں، جس کا خیال تھا کہ ایمان دل سے جان لینے کا نام ہے اور یہ کہ نہ تو ایمان کے اجزا ہوتے ہیں اور نہ ہی اہلِ ایمان اس معاملے میں ایک دوسرے پر کوئی فضیلت رکھتے ہیں۔ 2۔ اشاعرہ و ماتریدیہ: ان کے بقول ایمان محض دل کی تصدیق کا نام ہے۔ ان میں سے کچھ لوگوں جیسے باقلانی، جوینی اور رازی کا کہنا ہے کہ ایمان کم یا زیادہ نہیں ہوتا۔ یہی اکثر ماتریدیہ کا مذہب ہے۔ جب کہ کچھ لوگ جیسے ایجی اور غزالی کہتے ہیں کہ تصدیق قلبی مضبوط اور کمزور ہوا کرتی ہے اور اس کے واضح دلائل موجود ہيں۔ 3۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب: ان کا کہنا تھا کہ ایمان زبان سے اقرار کرنے اور دل سے تصدیق کرنے کا نام ہے اور اس میں کمی بیشی نہیں ہوتی۔ بعض ماتریدی حضرات اس قول میں ان کی موافقت کرتے ہیں۔ 4۔ کرامیہ: ان کے بقول ایمان صرف زبان سے اقرار کرلینے کا نام ہے اور اس میں دل کا کوئی حصہ نہیں۔ سارے مرجئہ کے اندر جو بات مشترک ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اعمال کو ایمان کے مفہوم سے الگ رکھتے ہیں۔ پھر عمل کے واجب ہونے کے مسئلے میں مرجئہ کے دو گروہ ہیں: 1۔ غالی مرجئہ: ان کا عقیدہ یہ ہے کہ عمل واجب نہیں ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مؤمن جتنے بھی گناہ کر لے یا پھر واجبات کی ادائیگی میں جتنی بھی کوتاہی کرے، وہ ہر صورت میں نجات پائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایمان کے ہوتے ہوئے گناہ کچھ نقصان نہیں دیتا، جیسے کفر کے ہوتے ہوئے کوئی نیکی فائدہ بخش نہیں ہوتی۔ 2۔ غیر غالی مرجئہ: ان کا خیال ہے کہ عمل واجب ہے اور گناہ گار روزِ قیامت اللہ کی مشیت کے تحت ہوگا۔ اگر اللہ چاہے گا تو اسے عذاب دے گا اور اگر چاہے گا تو اسے بخش دے گا۔ اس بات کی وجہ سے ان کے اور اہلِ سنت کے مابین اختلاف کم ہوجاتا ہے اور صرف ایمان کے مسمی میں اختلاف باقی رہ جاتا ہے۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

معتزلہ - معتزلة

معتزلہ: ایک اسلامی فرقہ، جو دوسری صدی ہجری کے اوائل اور اموی دور کے اواخر میں ظہور پذیر ہوا اور عباسی دور میں پروان چڑھا۔ اس فرقے نے بیرونی درآمد شدہ فلسفوں سے متاثر ہو کر اسلامی عقیدے کو سمجھنے میں محض عقل پر اعتماد کیا، جس کی وجہ سے یہ اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے سے منحرف ہوگئے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو 'اصحاب عدل و توحید' کا نام دیتے ہیں۔ معتزلہ کی وجہ تسمیہ کے سلسلے میں راجح قول یہ ہے کہ انھیں یہ نام اس لیے دیا گیا، کیوں کہ ان کا سربراہ واصل بن عطا، حسن بصری رحمہ اللہ کے حلقے سے یہ کہنے کے بعد الگ ہو گیا تھا کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب دنیا میں دو درجوں کے درمیان ہوتا ہے۔ یعنی نہ تو مؤمن رہتا ہے اور نہ کافر۔ ساتھ ہی یہ کہ اگر اس نے مرنے سے پہلے توبہ نہ کی، تو جہنم میں ہمیشہ رہے گا۔ معتزلہ کا ایک نام 'قَدَرِیہ' بھی ہے۔ انھیں یہ نام اس لیے دیا گیا، کیوں کہ یہ تقدیر کا انکار کرنے اور بندوں کے افعال کو ان کی قدرت کی طرف منسوب کرنے میں قدریہ گروہ کی موافقت کرتے ہیں۔ انھیں 'ثنویہ' اور 'مجوسيہ' بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ ان کا کہنا ہے کہ خیر اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور شر بندے کی طرف سے۔ ان کا یہ عقیدہ دراصل ثنویت اور مجوسیت کے مشابہہ ہے، جن کے ماننے والے دو معبودوں کے وجود کے قائل ہیں۔ ایک خیر کا معبود اور دوسرا شر کا۔ انھیں 'الوعيدية' کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ اس اسم کی وجہ تسمیہ ان کا یہ مشہور نظریہ ہے کہ اللہ کے کیے ہوئے وعدے اور اس کے ذریعے سنائی گئی وعید کو بہرحال پورا ہونا ہے اور یہ کہ اللہ تعالی اپنے وعدے اور وعید کی مخالفت نہیں کرتا۔ لہذا گناہ گار کو عذاب ضرور ملے گا ماسوا اس کے کہ وہ مرنے سے پہلے توبہ کرلے۔ ان کا ایک نام 'معطلہ' بھی ہے۔ فرقہ جہمیہ کو بھی اس نام سے جانا جاتا ہے۔ پھر اس کا اطلاق معتزلہ پر بھی ہونے لگا، کیوں کہ یہ لوگ صفات کی نفی اور ان کی تعطیل اور اپنے مذہب سے مطابقت نہ رکھنے والی کتاب و سنت کی نصوص کی تاویل کرنے کے سلسلے میں یہ جہمیہ سے اتفاق رکھتے ہیں۔ معتزلہ کے بنیادی اصول پانچ ہیں: 1- توحید: توحید سے وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار مراد لیتے ہیں، اس حجت کے ساتھ کہ اللہ کی صفات کا اثبات تعددِ قدیم کو مستلزم ہے اور یہ ان کے خیال میں شرک ہے، کیوں کہ صفات کو ثابت کرنے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ہر صفت کو الگ سے ایک خدا بنایا جارہا ہے۔ لہذا اس سے بچنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ صفات کی نفی کر دی جائے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف لوٹاتے ہوئے یہ کہا جائے کہ وہ عالم بذاتہ ہے، قادر بذاتہ ہے ۔ ۔ ۔الخ۔ اس سے ان کے خیال میں توحید کا اثبات ہوجائے گا۔ 2- عدل: اس سے ان کی مراد تقدیر کا انکار ہوا کرتی ہے اور اسے وہ اللہ تعالی کے افعال سے جوڑتے ہوئے بندوں کے برے کاموں کو اللہ عز و جل کے ارادے اور قضا و قدر سے باہر کر دیتے ہیں، کیوں کہ انھیں اللہ کے ارادے اور قضا و قدر کے اندر رکھنا برے کام کی نسبت اللہ کی جانب کرنے کو واجب کرتا ہے اور اللہ کی ذات اس سے پاک و برتر ہے۔ 3- وعدہ اور وعید: اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ وہ اللہ پر واجب قرار دیتے ہیں کہ وہ اپنے وعدے کو پورا کرے اور بندے کو جن نیک کاموں کا مکلف بنایا ہے اسے ان کا بدلہ دے، کیوں کہ بندہ جب اللہ تعالی کی اختیار کردہ ان تمام ذمہ داریوں کو پورا کرتا ہے جو اس نے اپنے بندوں پر ڈالی ہوتی ہیں، تو اللہ کے اس سے کیے گئے وعدے کی رو سے اس کا یہ اللہ پر حق بنتا ہے۔ ان کے ہاں وعید کا مفہوم یہ ہے کہ نافرمان مؤمنوں کے بغیر توبہ مرنے پر اللہ نے ان کے لیے جو وعید سنائی ہے، اسے وہ ضرور پورا کرے گا اور یہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ اپنی بات کی خلاف ورزی کرے اور جھوٹ بولے۔ 4- منزلۃ بین المنزلتین: اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ گناہ گار مؤمن نہ تو مؤمن ہے اور نہ ہی کافر، بلکہ اس کا ایک الگ سے تیسرا حکم ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا میں اسے 'فاسق' کہا جائے گا اور آخرت میں وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا۔ پھر چوں کہ دنیا میں اس کا الگ سے حکم اور نام ہوا کرتا ہے، اس لیے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ وہ (کفر اور ایمان کے) دو درجوں کے درمیان ایک (تیسرے) درجے میں مانا جائے۔ 5- امر بالمعروف اور نہی عن المنکر: معتزلہ کے ہاں بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا کام فرضِ کفایہ ہے۔ اگر اتنے لوگ اس کام کو انجام دیں، جو کافی ہوں، تو باقی لوگوں سے یہ ساقط ہو جاتا ہے۔ تاہم اہلِ سنت اور معتزلہ کے مابین درج ذیل باتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے: 1۔ برائی کو بدلنے کا طریقہ۔ 2۔ ان کے نزدیک ظالم بادشاہ کے خلاف خروج واجب ہے۔ 3۔ مخالفین کے خلاف اسلحہ اٹھانا، چاہے وہ کافر ہوں یا اہلِ قبلہ میں سے گناہ گار لوگ ہوں۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

وُجودیہ - وجودية

وُجودیت: ایک الحادی مکتبِ فکر اور اباحیت پر مبنی فلسفیانہ و ادبی رجحان۔ یہ ایک گمراہ کُن نظریہ ہے، جو بظاہر انسانی قدر و قیمت کی وکالت کرتا ہے۔ اس نظریہ کی رُو سے انسان غور و فکر، آزادی، ارادے و اختیار کا حامل ہے۔ اُسے کسی ہدایت کار کی ضرورت نہیں ہے۔ اُسے خود اپنے آپ کو ظاہر اور اپنے وجود کو ثابت کرنا چاہیے۔ اپنی ذات سازی اور ارادے کی تشکیل خود کرنی چاہیے۔ وہ خود اپنے اعمال کی تخلیق، اُن کی نوعیت اور ماہیت کی تحدید آزادانہ طور پر کرے۔ اس میں اُسے کسی خالق سے جُڑنے اور اپنے اختیار سے پرے اخلاقیات و اقدار کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اُس کے لیے ضروری ہے کہ وہ زندگی کو منظم والے اقدار کو اختیار اپنی مرضی سے کرے۔ یہ مغربی ادب میں وجود پذیر بیسویں صدی کا مشہور ترین مکتبِ فکر ہے۔ تاہم فردِ بشر اپنا وجود کیسے ثابت کرے، اِس کی کیفیت میں اُن کے ہاں خود اختلاف پایا جاتا ہے؛ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فرد سماجی بندھنوں، یا دین اور اخلاقیات کی رُو رِعایت کیے بغیر اپنے آپ کو خواہشاتِ نفس کے پیچھے کھلا چھوڑ کر اپنے حقیقی وجود کو ثابت کرے گا۔ جب کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایسا خوف و خطرات کا سامنا کرنے اور آزمائشوں اور مصائب سے نبرد آزما ہونے سے پورا ہوگا۔ انھیں یہ نام کیوں ملا، اس بارے میں اختلاف ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ انھیں یہ نام اس لیے دیا گیا، کیوں کہ وہ انسان کے وجود کو اس کی ماہیت پر مقدم جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وجود ماہیت پر مقدم ہے۔ جب کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انھیں اس نام سے جانے جانے کی وجہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ کسی چیز کا ذاتی وجود اس کے متعدد اکا‏ئیوں کی حامل ایک نوع کے فرد ہونے سے زیادہ اہم ہے۔ اُن کی اس فکری کجی کا اخلاقی ابتری، جنسی اباحیت پسندی، حرمتوں کی پامالی اور فساد و بگاڑ کو رواج دینے میں بڑا ہاتھ رہا ہے۔ مغربی مفکرین کا خیال ہے کہ ’سورین کیرکگارڈ‘ (1813 - 1855م) اس مکتبِ فکر کا بانی ہے۔ اس مکتب فکر کے مشہور ترین اور معاصر قائدین میں سے ایک فرانسیسی فلسفی’جان پال سارٹر‘ بھی رہا ہے، جس کی پیدائش 1905عیسوی میں ہوئی۔ وہ ایک مُلحد تھا۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

یزیدیہ - يزيدية

یزیدیہ: یہ ایک گمراہ فرقہ ہے، جس کا ظہور 132 ہجری میں اموی حکومت کے سقوط کے بعد ’یزید بن انیسہ‘ کے ہاتھ پر ہوا۔ اس فرقے کے کچھ باطل عقائد اس طرح ہیں: - اللہ تعالیٰ عجم سے ایک رسول بھیجے گا، جس پر آسمان سے لکھی گئی ایک کتاب نازل کرے گا، جو اس پر یک بارگی نازل ہوگی۔ - اس نے نبی ﷺ کی شریعت کو ترک کرکے کسی اور شریعت کو اپنا لیا تھا۔ - قبروں اور مزاروں پر آنا جانا۔ - اسلام کے ہر رکن کے بارے میں ان کا ایک خاص عقیدہ ہے۔ - اس کا گمان تھا کہ وہ نبی جسے اللہ تعالیٰ مبعوث کرے گا، اس کا دین صابی دین ہوگا اور یہ وہ دین نہیں ہوگا، جس پر لوگ آج عمل پیرا ہیں اور نہ ہی وہ ہوگا، جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر کیا ہے۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

یہودیت - يهودية

یہودیت: ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند اسرائیل (یعقوب علیہ السلام) کی نسل سے آنے والے عبرانیوں کا مذہب، جو اسباط بنی اسرائیل کے لقب سے مشہور تھے۔ اللہ نے ان کی طرف موسی علیہ السلام کو نبی بناکر توریت کے ساتھ بھیجا تھا۔ یہودی اصلاً آسمانی کتاب کے حامل موحد لوگ تھے۔ لیکن بعد میں شرک اور تجسیم کی طرف مائل ہو گئے، جس کی وجہ سے ان کے اندر بہت سے نبی مبعوث کیے گئے، تاکہ وہ جب جب الوہیت کے مفہوم میں انحراف کے شکار ہوں، انھیں جادۂ توحید کی طرف لوٹایا جاسکے۔ انھوں نے مصر سے نکلنے کے بعد ایک بچھڑے کو معبود بنالیا۔ ’اِلٰہ‘ جس کو وہ ’یھوہ‘ کا نام دیتے ہیں، اُس کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ وہ معصوم نہیں؛ بلکہ وہ غلطی کرتا ہے، بھڑک اٹھتا ہے، ندامت کا شکار ہوتا ہے، سخت گیر ہے، متعصب ہے، اپنے ہی لوگوں کو تباہ وبرباد کرنے والا ہے، وہ صرف بنو اسرائیل کا معبود اور اس طرح بقیہ لوگوں کا دشمن ہے۔ ان کا گمان ہے کہ وہ بادلوں کے ستون کی شکل میں بنو اسرائیل کی ایک جماعت کے آگے آگے چلتا ہے۔ -اللہ تعالیٰ ان ظالموں کی باتوں سے بہت بلند ہے۔- ان کا عقیدہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے اسحاق علیہ السلام ذبیح تھے، جو سارہ علیہا السلام کے بطن سے پیدا ہوئے تھے، حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ ذبیح اسماعیل علیہ السلام تھے۔ ان کے تحریف شدہ دین میں موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے، دائمی زندگی اور ثواب و عقاب کے بارے میں صرف سرسری ذکر اور بسیط اشارے ملتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چیزیں یہودیوں کے خود ساختہ مادی افکار کے تانے بانے سے میل نہیں کھاتیں۔ لہذا ان کے نزدیک ثواب دنیوی ہوتا ہے اور اس سے مراد نصرت و تائید ہے اور عقاب بھی دنیوی ہوتا ہے، جس سے مراد سے خسارہ، ذلت اور غلامی ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ وہ اللہ کی چنندہ قوم ہیں اور یہودیوں کی ارواح اللہ کا جز ہیں۔ اللہ تعالی ان کی باتوں سے بلند و برتر ہے۔ ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ انسان اور حیوان کے درمیان اتنا ہی فرق ہے، جتنا یہودی اور غیر یہودی کے درمیان ہے۔ بن موسی مندلزدہن (1729 - 1786 ء) کے زیر قیادت جرمنی میں اصلاح پسند تحریک کے رونما ہونے سے پہلے یہودیوں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ يہود ایک مذہبی جماعت ہے، جو غیر قومی خصائص سے عاری ہے۔ کیوں کہ یہودی ماضی کے ہر دور میں ایک معین جنس میں محصور تھے اور یہودی ہونے کے لیے ضروری تھا کہ اس نے کسی یہودی ماں کی کوکھ میں جنم لیا ہو اور اس کا سلسلۂ نسب اسحاق اور یعقوب کے بیٹوں تک پہنچتا ہو، جنھوں نے اپنے اخلاف کو عہد الہی پہنچایا ہے۔ ساتھ ہی ان کا یہ نام بظاہر جغرافیائی اور تاریخی دلالت کا بھی حامل تھا، کیوں کہ یہ صرف جنوبی مملکت (یہوذا) کے باشندوں کی طرف اشارہ کرتا تھا۔ لیکن بعد میں اس کی دلالت میں وسعت پیدا ہوئی، تاکہ اس کے دائرے میں تمام یہودی آ جائیں۔ بطور خاص آشوریوں کے ہاتھوں جلا وطنی کے نتیجے میں شمالی مملکت (یسرائیل) کے باشندوں کے اپنا وجود کھو دینے، تاریخ کے منظر نامے سے ان کے غائب ہو جانے اور مملکت یہوذا کے دو صدیوں تک جاری رہنے کے بعد۔ اس طرح لفظ یہودی ہر اس آدمی کا نام بن گیا، جو کسی بھی زمانے میں اور کسی بھی جگہ یہودیت کو گلے لگائے، قطع نظر اس کے کہ وہ کس نسل سے تعلق رکھتا ہے اور کس علاقے سے آتا ہے۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

کمیونزم - شيوعية

شیوعیت (کمیونزم): ایک ایسا نظام، جو انفرادی ملکیت کو کالعدم قرار دینے اور مال، عورتوں، تمام دولتوں اور آمدنیوں پر سب لوگوں کے مشترکہ حق کے اصول پر قائم ہے۔ اس نظام کی بنیاد کارل مارکس نے رکھی تھی اور اس کی تنفیذ اس کے بعد آنے والے لوگوں نے کی۔ یہ نظام لادینیت پر مبنی ہے اور کائنات اور زندگی کو مادی نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے۔ یہ اپنے مقاصد کو آہن و آتش اور اپنے تمام وسائل کے ذریعےحاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے کچھ عقائد اس طرح ہیں: 1۔ اللہ کے وجود اور تمام غیبی امور کا انکار کرنا اور یہ کہنا کہ مادہ ہی ہر شے کی بنیاد ہے۔ ان کا نعرہ ہے کہ ہم تین شخصیتوں پر یقین رکھتے ہیں: مارکس، لینن اور اسٹالن، اور تین چیزوں کا انکار کرتے ہیں: اللہ، مذہب اور نجی ملکیت۔ 2۔ یہ لوگ تمام ادیان کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہیں اور انھیں قوموں کو نشہ میں رکھنے کا ذریعہ اور سرمایہ دارانہ نظام کا خادم سمجھتے ہیں۔ تاہم یہ یہودیت کو اس سے مستثنی قرار دیتے ہیں، کیوں کہ ان کے خیال میں یہودی لوگ مظلوم ہیں، جنھیں اپنے دین کی ضرورت ہے، تاکہ وہ اپنے چھنے ہوئے حقوق کو واپس لے سکیں۔ 3۔ یہ انفرادی ملکیت کے خلاف ہیں اور اموال کی شراکت کے قائل ہیں اور وراثت کے خاتمے پر یقین رکھتے ہیں۔ 4۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ دنیا کی اس زندگی کے علاوہ نہ تو آخرت کا کوئی وجود ہے اور نہ ہی ثواب و عقاب کی کوئی حقیقت ہے۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

فرقۂ ناجیہ - الفِرْقَةُ النَّاجِيَةُ

’فرقۂ ناجیہ‘ کا اطلاق ہر اس شخص پر ہوتا ہے، جو اس صحیح عقیدہ کا حامل ہو، جس پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور قیامت کے دن تک راست بازی کے ساتھ ان کی اتباع کرنے والے لوگ قائم ہیں۔ دراصل وہ عقیدہ اللہ، اس کے رسولوں، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، یوم آخرت اور اچھی و بری تقدیر پر ایمان لانا اور ان کے علاوہ دیگر اعتقادات و واجبات، نیز بدعات، گمراہیوں اور گمراہ لوگوں کو چھوڑ دینا ہے۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

فلاسفہ - فَلاسِفَةٌ

فلسفہ کی بنیاد عقل کو ہر ماخذ پر ترجیح دینے اور اسے مقدس ماننے پر ہے۔ شروع میں اس کا اطلاق ابتدائی اصولوں کے مطالعہ اور معرفت (علم) کی عقلی تشریح پر ہوتا تھا اور اس کی غرض و غایت حقیقت کی تلاش تھی۔ یہ کئی مراحل سے گزرا ہے اور فلسفیوں نے اس کے چار اجزا کیے ہیں، جو کچھ اس طرح ہیں: 1. انجنیئرنگ اور ریاضی۔ 2. منطق: جو شے کی تعریف، دلیل اور ان کی شرطوں کے بارے میں بحث کرتی ہے۔ 3. الٰہیات: جس میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے بارے میں بحث ہوتی ہے۔ 4. طبیعیات: جس میں اجسام اور ان کے خواص کے بارے میں بحث ہوتی ہے۔ فلاسفہ ایسے لوگوں کا گروہ ہے، جو حق اور نبیوں کے مذاہب کے دائرے سے باہر نکلے ہوئے ہیں اور وحی کے بدلے میں عقلی دلائل کا دامن تھام رکھا ہے۔ انھوں نے یونانی بت پرست ملحدوں سے کسب فیض کیا تھا۔ ان کی کئی قسمیں ہیں، جن میں دہریّہ، طبیعیات پرست اور الٰہیات سے بحث کرنے والے لوگ شامل ہیں۔ فلسفہ کی تین قسمیں ہیں: 1- حسّی فلسفہ: یہ حواس سے متعلق فلسفہ ہے اور اس کا موضوع عالَمِ طبیعت (فطرت) ہے۔ 2- نظری اور عقلی فلسفہ: یہ برہانی استدلال اور نظری استنباط سے وجود میں آتا ہے۔ اس کے حاملین کو 'مشائیّہ' یعنی چلتے پھرتے لوگ کہتے ہیں، کیوں کہ اس کا سربراہ ارسطو اپنے متبعین کو چلتے ہوئے تعلیم دیا کرتا تھا۔ 3- اشراقی فلسفہ: وہ فلسفہ جو تخمینہ، الہام اور نفس پر ہونے والے فیضان سے وجود میں آتا ہے۔ اس کا موضوع علومِ الٰہیّہ ہیں۔ یونان کے مشہور ترین فلسفی افلاطون اور ارسطو ہیں۔ جب کہ اسلام سے منسوب مشہور ترین فلسفی کندی، فارابی اور ابن سینا ہیں۔ فلاسفہ کے بعض غلط عقائد درج ذیل ہیں: 1. دنیا کے قدیم (یعنی یہ کہ دنیا بغیر کسی موجد کے وجود میں آگئی، یا یہ کہ اس عالم پر کبھی عدم گزرا ہی نہیں) ہونے کا قائل ہونا۔ 2. اللہ کے علم اور انبیا کی کتابوں کا انکار کرنا۔ 3. آخرت اور جنت و جہنم کا انکار کرنا۔ 4. ان کے ہاں فرشتے عقل کا نام ہیں۔ 5. فلسفی نبی سے اعلیٰ درجہ رکھتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

اثنا عشریہ - اثنا عشرية

اثنا عشری' شیعہ کے فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے۔ انھیں 'اثنا عشری' نام اس لیے دیا گیا، کیوں کہ یہ اہلِ بیت میں سے بارہ آدمیوں کی امامت کا عقیدہ رکھتے ہیں، جن میں سب سے پہلے علی رضی اللہ عنہ ہیں اور سب سے آخری غائب امام محمد بن حسن عسکری ہیں، جن کے بارے میں ان کا یہ خیال ہے کہ وہ تیسری صدی ہجری کے وسط میں عراق میں سامراء کی 'سرداب' (یعنی زیر زمین بنائے گئے تہ خانے) میں چلے گئے تھے اور آج بھی اس کے اندر زندہ ہیں۔ یہ لوگ ان کے خروج کا انتظار کر رہے ہیں۔ ’اثنا عشری‘ کو 'رافضہ'، 'جعفریہ' اور 'امامیہ' کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ ’اثنا عشری‘ فرقے سے بہت سے ذیلی فرقے نکلے ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں: شیخیہ، کشفیہ اور بابیہ وغیرہ۔ اثناعشری روافض کے عقائد اور اصول ایسے ہیں جو اہلِ اسلام کے عقائد و اصول کے مخالف ہیں،ان میں سے چند یہ ہیں: 1۔ ان کا عقیدہ ہے کہ قرآن تحریف شدہ ہے۔ 2۔ یہ ماسوا چند کے باقی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تکفیر کرتے، ان کو سبّ وشتم کا نشانہ بناتے اور ان سے بغض رکھتے ہیں۔ یہ خلفائے ثلاثہ یعنی ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم سے براءت کا اظہار کرتے ہیں اور انھیں قبیح ترین صفات سے متصف کرتے ہیں؛ اس لیے کہ انھوں نے - ان کے زعم کے مطابق - علی رضی اللہ عنہ سے خلافت کو غصب کر لیا تھا، جو کہ ان سب سے خلافت کے زیادہ حق دار تھے۔ 3۔ یہ اپنے بارہ اماموں کے متعلق یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ معصیت و برائی تو درکنار، وہ خطا اور سہو سے بھی معصوم ہیں اور یہ کہ وہ علمِ غیب رکھتے ہیں۔ 4۔ یہ قبروں اور مزاروں کی تعظیم کرتے ہیں اور مُردوں سے دعا مانگتے ہیں۔ 5۔ یہ تقیہ کے اس حد تک قائل ہیں کہ اسے دین کے اصول میں شمار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تقیہ ترک کرنا نماز ترک کرنے کے برابر ہے۔ 6- ان کا یہ عقیدہ ہے کہ عورتوں سے متعہ کرنا بہترین عادات اور افضل ترین نیکیوں میں سے ہے۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

اسماعیلیہ - إسماعيلية

اسماعیلیہ : یہ وہ لوگ ہیں جو اسماعیل بن جعفر صادق کی امامت کو ثابت کرتے ہیں۔ ایک قول کی رو سے یہ محمد بن اسماعیل بن جعفر صادق کی طرف منسوب ہیں۔ بظاہر تو یہ فرقہ اہلِ بیت کی محبت کا دم بھرتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ لوگ اسلامی عقائد کو ڈھانے، احکامِ شریعت کے ابطال اور دین میں کمی ڈھونڈنے کے درپے رہتے ہیں۔ یہ فرقہ متعدد ذیلی گروہوں میں بٹ کر آج تک موجود ہے۔ غلو میں یہ لوگ اس درجہ تک بڑھ گئے کہ اثنا عشری شیعہ بھی اس گروہ کے افراد کی تکفیر کرتے ہیں۔ اسماعیلیہ کے دو گروہ ہیں: 1۔ وہ فرقہ، جو اسماعیل بن جعفر کا منتظر ہے، حالاں کہ مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ اسماعیل اپنے والد کی زندگی ہی میں وفات پا گئے تھے۔ 2۔ وہ فرقہ، جس کا یہ کہنا ہےکہ جعفر صادق کے بعد امام ان کے پوتے محمد بن اسماعیل بن جعفر تھے، کیوں کہ جعفر صادق نے اپنے بعد اپنے بیٹے اسماعیل کو امام متعین کیا تھا۔ تاہم جب اسماعیل اپنے والد کی زندگی ہی میں وفات پا گئے، تو اس سے معلو م ہوا کہ انھوں نے ان کے بیٹے کو امام متعین کر دیا تھا۔ ان کے کچھ عقائد یہ ہیں: 1- ان کے نزدیک عصمت گناہوں اور غلطیوں کے عدمِ ارتکاب میں نہیں، بلکہ یہ لوگ گناہوں کی اس انداز میں تاویل کرتے ہیں جو ان کے عقائد سے مناسبت رکھتی ہو۔ 2۔ جو شخص اس حال میں مر گیا کہ نہ تو اس نے اپنے وقت کے امام کو پہچانا اور نہ ہی اس کی بیعت کی ہو، تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ 3۔ امام کے بارے میں اس حد تک غلو کہ یہ لوگ امام کو ایسی صفات سے موصوف کرتے ہیں، جو اسے الوہیت سے ملتے جلتے مقام تک پہنچا دیتی ہے۔ ان کے نزدیک امام علمِ باطنی کا مالک ہوتا ہے اور جو کچھ وہ کماتے ہیں اس کاپانچواں حصہ امام کو دیتے ہیں۔ 4۔ یہ لوگ تقیہ اور رازداری پر ایمان رکھتے ہیں اور کڑے اور سخت حالات میں ان سے کام لیتے ہیں۔ 5۔ یہ تناسخ کے قائل ہیں اور ان کے نزدیک امام تمام انبیا اور اس سے پہلے گزرنے والے سب ائمہ کا وارث ہوتا ہے۔ 6۔ یہ اللہ کی صفات کا یا تو سرے سےانکار کرتے ہیں یا انکار کے قریب پہنچ جاتے ہیں، کیوں کہ ان کے نزدیک اللہ کی ذات عقل کی دست رس سے باہر ہے۔ وہ نہ تو موجود ہے اور نہ غیر موجود، نہ عالم ہے نہ جاہل، نہ وہ قادر ہے اور نہ عاجز۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

امامیہ - إمامية

امامیہ: یہ اثنا عشری امامیہ شیعہ کے نام سے بھی معروف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شیخین (ابو بکر و عمر) اور عثمان رضی اللہ عنھم اجمعین کی بجائے علی رضی اللہ عنہ امامت کے زیادہ حق دار تھے۔ ان پر امامیہ کے نام کا اطلاق کیا گیا، کیوں کہ انھوں نے امامت کو ایک ایسا بنیادی قضیہ بنا دیا ہے، جس کی بحث میں یہ ہمہ وقت مشغول رہتے ہیں۔ انھیں اثنا عشری بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ یہ بارہ اماموں کے قائل ہیں، جو بھول چوک اور صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے معصوم ہیں۔ ان میں سے آخری امام سامراء کے مقام پر ایک سرنگ میں داخل ہو گیا تھا، جس کا نام ان کے خیال میں حسن عسکری تھا۔ یہ آلِ بیت کی محبت کا دعوی کرتے ہیں۔ ان کے کچھ عقائد یہ بھی ہیں: علم لدنی: ان کے بقول ہر امام کو رسول اللہﷺ سے علم ملا ہے، جس سے شریعت کی تکمیل ہوتی ہے۔ ان کے مطابق امام اور نبیﷺ کے مابین سواے اس کے کوئی فرق نہیں کہ امام پر وحی نہیں آتی۔ نبی ﷺ نے اماموں کو اسرارِ شریعت ودیعت فرمائے، تاکہ وہ لوگوں کے سامنے ان کے زمانے کے تقاضے کے اعتبار سے بیان کریں۔ غیبہ: ان کا خیال ہے کہ کوئی زمانہ عقلی اور شرعی طور پر اللہ کی حجت سے خالی نہیں ہے اور اب بارہواں امام حجت ہیں۔ لیکن یہ ان کے گمان کے مطابق سرنگ میں چھپے ہوئے ہیں۔ یہ ان کی غیبوبت صغری اور غیبوبت کبری کے بھی قائل ہیں۔ دراصل یہ ان کی خود ساختہ کہانیاں ہیں۔ اسی کی بنا پر خمینی نے ولایت فقیہ اور امام منتظر کی نیابت کی بدعت ایجاد کی۔ رجعت: ان کا عقیدہ ہے کہ حسن عسکری آخری زمانے میں واپس آئیں گے جب اللہ انھیں نکلنے کی اجازت دیں گے۔ ان کے بقول یہ آکر زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، بعد اس کے کہ اس میں ظلم و جور کا دور دورہ ہوگا۔ تقیہ: تقیہ کو یہ اصولِ دین میں سے ایک اصل مانتے ہیں۔ اسے ترک کرنے والا اس شخص کی مانند ہے، جو نماز ترک کرتا ہے۔ یہ واجب ہے اور اس وقت تک یہ ختم نہیں ہوگا، جب تک کہ مہدی نہ آجائیں۔ جس نے ان کے ظہور سے پہلے اسے ترک کیا، وہ اللہ کےدین اور مذہب امامیت سے خارج ہو گیا۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ان کے پاس ایک صحیفہ قرآنی ہے، جسے یہ مصحف فاطمہ کا نام دیتے ہیں۔ براءت: یہ تین خلفا یعنی ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنھم سے براءت کا اظہارکرتے ہیں اور ان کا ذکر بہت بُرے الفاظ سے کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ بہت سے صحابہ پر بھی لعنت کرتے ہیں، حتی کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر طعنہ زنی سے بھی نہیں ڈرتے۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

بہائیت - بهائية

بہائیت: ایک خبیث باطنی فرقہ ہے، جو کہ مرزا حسین علی (1233-1309هـ ،1817-1892م) کے ہاتھوں بابیت ہی کا امتداد (تسلسل) ہے، جب اس نے یہ اعلان کیا کہ 'باب' کی کتابوں میں آنے والی عبارت "من يظهره الله" (وہ شخص جسے اللہ ظاہر فرمائے گا) سے وہی مقصود ہے۔ اس نے دعوی کیا کہ 'باب' نے اس کے آنے کی خوش خبری دی تھی۔ بہائیت کے نزدیک 'الباب' سے مراد وہ شخص ہے، جو ان کے اور بارہویں امام محمد بن حسن عسکری کے مابین واسطہ ہوتا ہے۔ بعد ازاں اس نے مہدی منتظر ہونے کا دعوی کردیا۔ پھر نبوت و الوہیت کا بھی دعوی کیا اور یہ گمان (دعوی) کیا کہ اللہ تعالی اس میں حلول کرگیا ہے۔ (تعالى الله عن ذلك عُلُوّاً كبِيراً)۔ ان کے کچھ عقائد اس طرح ہیں: حلول و اتحاد، تناسخ اور خلودِ کائنات کو ماننا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ ثواب و عقاب صرف روحوں کو اس طور پر ہوتا ہے کہ خیال کے مشابہ ہوتا ہے۔ یہ انبیا کے معجزات اور فرشتوں اور جنوں کے وجود کا انکار کرتے ہیں اور جنت و دوزخ (جہنم) کو بھی نہیں مانتے۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

تیجانیہ - تيجانية

تیجانیہ: یہ ایک صوفی سلسلہ، جس کی بنیاد ابوالعباس احمد بن محمد بن مختار تیجانی (1150ھ- 1230ھ) نے رکھی، جو الجزائر (الجيريا) کے صحرا میں واقع "عین ماضی" کی بستی میں پیدا ہوا تھا۔ اس فرقے کی نسبت مغرب (مراکش) میں واقع بربر علاقے کے ''بنی تجین'' نامی قصبے کی طرف کی جاتی ہے۔ اس فرقے کے لوگوں کے کئی ایسے صوفیانہ افکار اور عقائد ہیں، جو شرک پر مبنی ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ یہ لوگ اس دنیا میں نبی ﷺ سے مادی و حسی ملاقات ہونے کو ممکن مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نبیﷺ نے خاص طور پر انھیں درود ”الفاتح لِما أُغْلِقَ“ عطا کیا، جس کا ان کے ہاں بہت اونچا مقام ہے۔ اس درود کے الفاظ یہ ہیں: "اللهم صل على سيدنا محمد الفاتح لما أغلق، والخاتم لما سبق، ناصر الحَقِّ بِالحَقِّ، الهادي إلى صراطك المستقيم، وعلى آله حق قدره ومقداره العظيم"۔ یہ درود ان کے ہاں بڑا اہم مقام رکھتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے قرآن کی تلاوت سے کئی گنا زیادہ افضل قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح تیجانی کا یہ دعوی تھا کہ وہ خاتم الاولیاء ہے اور یہ کہ وہ اپنی حیات میں اور بعد از حیات غوث اکبر ہے۔ اپنے اس دعوے کی بنا پر اس نے اپنے آپ کو گویا ایک بت بنا لیا، جسے اللہ کو چھوڑ کر پوجاجاتا ہے۔ اسی طرح اس کا دعوی تھا کہ آدم علیہ السلام سے لے کر اس کے ظہور تک جتنی بھی اولیا کی ارواح ہیں ان پر كشف اور انھیں علم لدنی اسی کے واسطے سے حاصل ہوتا ہے۔ وہ دعوی کرتا تھا کہ جنت میں سب سے پہلے داخل وہ، اس کے ساتھی اور اس کے متبعین ہی ہوں گے، اللہ تعالی نے اسے اس صدی کے تمام لوگوں کا شافع بنایا ہے جس میں اس نے زندگی گزاری، نیز یہ کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے 'صلاۃ الفاتح' نامی ایک ذکر عطا کیا ہے جو بشمول قرآن روئے زمین پر کیے جانے والے کسی بھی ذکر سے ساٹھ ہزار درجہ افضل ہے۔ اس کے علاوہ بھی اس کے بہت سے باطل عقائد ہیں جیسے وحدۃ الوجود کا قائل ہونا وغیرہ۔ یہ صوفی سلسلہ خاص طور پر افریقہ کے بہت سے ممالک میں میں رائج ہے۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

بدھ مت - بوذية

بدھ مت: ایک مذہب ہے، جس کی بنیاد سدھارتھ گوتم (560-480 قبل مسیح) نے رکھی، جس کا لقب بدھ تھا۔ بدھ کے معنی ہیں: عالم۔ اسے ساکیہ منی کا لقب بھی دیا جاتا ہے جس کے معنی ہیں: معتکف۔ بدھ مت کے پیروکاروں کے عقیدے کی رو سے بدھ اللہ کا بیٹا ہے، جو انسانیت کو اس کے مصائب اور مشکلات سے نجات دلانے والا ہے اور یہ کہ وہ ان کی سب خطاؤں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ بدھ مت در اصل ایک خود ساختہ فلسفہ ہے، جس نے دینی رنگ ڈھنگ اپنا لیا۔ اس کا ظہور ہندوستان میں پانچویں صدی عیسوی قبل مسیح میں ہندو برہمنی مذہب کے بعد ہوا۔ ابتدا میں بدھ مت ہندو مذہب کا مزاحم تھا اور انسان اس کی توجہ کا مرکز تھا۔ اسی طرح اس میں تصوف، خشونت اختیار کرنے، عیش و آرام ترک کرنے، محبت و درگزر اور اچھے اعمال کرنے کی دعوت تھی۔ اپنے بانی کی موت کے بعد یہ بت پرستانہ باطل عقائد میں بدل گیا۔ اس دین کے پیروکاروں نے اس کے بانی کے متعلق اتنا زیادہ غلو کیا کہ اسے خدا ہی بنا دیا۔ قدیم بدھ مت جدید بدھ مت سے مختلف ہے، کیوں کہ قدیم بدھ مت پر اخلاقی رنگ نمایاں تھا جب کہ جدید بدھ مت کائنات اور زندگی کے بارے میں فلسفیانہ آرا اور عقلی قیاسات سے مخلوط بدھ کی تعلیمات پر مشتمل ہے۔ بدھ مت کے پیرو کاروں کی دو اقسام ہیں: 1۔ بدھ مت کے مذہبی پیرو: یہ وہ لوگ ہیں جو بدھ کی تمام تعلیمات اور احکامات کو اپناتے ہیں۔ 2۔ بدھ مت کے عام پیرو: یہ صرف بعض تعلیمات اور احکامات پر عمل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ جنوبی ایشیا خاص طور پر سری لنکا اور برما میں بدھ مت کی بعض ابتدائی اشکال ابھی تک موجود ہیں، جب کہ شمال، خاص طور پر چین اور جاپان میں اس کی پیچیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور یہ دو فرقوں میں تقسیم ہو گیا ہے، جو یہ ہیں: 1۔ مہایان کا مسلک (شمالی علاقوں کا مسلک ): یہ مسلک بدھ کو خدا تسلیم کرنے، اس کی عبادت کرنے اور اس کے نقش قدم پر چلنے کی دعوت دیتا ہے۔ 2۔ ہنیان کا مسلک (جنوبی علاقوں کا مسلک): یہ مسلک بدھ کی تعلیمات کا پاسبان ہے۔ اس مسلک کے ماننے والوں کے نزدیک بدھ ایک عظیم اخلاقی معلم تھے، جو روحانی پاکیزگی کے بلند درجے پر پہنچ چکے تھے۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان

جبریہ - جبرية

’جبریہ‘ ایک ایسا فرقہ ہے، جس نے تقدیر کے اثبات میں اس حد تک غلو سے کام لیا کہ بندے سے اس کی قدرت اور اختیار ہی کو سلب کرلیا۔ ان کے کچھ معتقدات اس طرح ہیں: 1۔ یہ اس بات کے قائل ہیں کہ بندہ مُسَيَّر ہے (یعنی اسے چلایا جاتا ہے) نہ کہ مُـخَيَّرْ (صاحب اختیار)۔ (یعنی اس کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے)۔ 2۔ یہ لوگ معاصی اور گناہوں کے ارتکاب پر تقدیر کو حجت بناتے ہیں؛ کیوں کہ کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اللہ کے ارادے اور مشیت سے ہورہا ہے۔ جبریہ کی دو قسمیں ہیں: 1۔ خالص جبریہ (یعنی غلوکرنے والے): یہ وہ لوگ ہیں، جو بندے کے لیے سِرے سے نہ تو کسی فعل کا اثبات کرتے ہیں اور نہ ہی فعل کی قدرت کا۔ جیسے جہمیہ وغیرہ۔ 2۔ متوسط جبریہ: جو بندے کے لیے قدرت کا اثبات تو کرتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک یہ غیر مؤثر ہوتی ہے۔ یہ لوگ اشعریوں کی طرح بندے کی طرف فعل کی نسبت اس کے اسے کرنے اور سرانجام دینے کے اعتبار سے کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان کو قدرت و مشیت تو حاصل ہے، لیکن اس قدرت و مشیت کی وجہ سے فعل واقع نہیں ہوتا۔ انسان کے مجبور محض ہونے کا نظریہ ایک واضح باطل نظریہ ہے۔ کیوں کہ انسان اپنے ان افعال میں صاحب اختیار ہے، جن کی تخلیق اللہ تعالی فرماتا ہے۔ درحقیقت فاعل تو وہی ہوا کرتا ہے۔ لیکن چوں کہ ان کے اندر ارادہ اور قوت اللہ نے پیدا کی ہے، اس لیے بندہ کا فعل بھی اللہ کی مخلوق ہی ٹھہرا۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

جعفریہ - جعفرية

جعفریہ رافضی شیعوں کا ایک فرقہ ہے۔ اس فرقے کو اثنا عشریہ اور امامیہ بھی کہتے ہیں۔ یہ لوگ جعفر صادق کی طرف منسوب ہیں، جو ان کے گمان کے مطابق ان کے چھٹے امام ہیں۔ جب کہ ان کے پہلے امام علی رضی اللہ عنہ ہیں اور آخری امام محمد بن حسن عسکری ہیں، جو کہ ایک موہوم (بے بنیاد) غائب شخصیت ہے۔ ان کے اہم عقائد میں سے چند درج ذیل ہیں: 1- ان کا عقیدہ ہے کہ قرآن تحریف شدہ ہے۔ 2- بعض صحابہ کو چھوڑ کر سب کی تکفیر کرتے، انھیں گالیاں دیتے اور ان سے بغض رکھتے ہیں۔ 3- اپنے بارہ اماموں کے غلطی اور سہو سے معصوم ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں، چہ جائے کہ ان سے معصیت اور گناہ سرزد ہو اور یہ کہ وہ غیب کا علم رکھتے ہیں۔ 4- قبروں اور مزارات کی تعظیم کرتے ہیں اور مُردوں کو پکارتے ہیں۔ 5- تقیّہ کے قائل ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی گمراہ کن عقائد و افکار ہیں۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

جین مت - جينية

’جین مت‘ بڑے ہندوستانی مذاہب میں سے ہے، جو ہندو مت سے نکلا ہے۔ اسے ’جین شاسن‘ (جین دھرم) اور ’الحادی تحریک‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ یہ ہندومت کے خلاف ایک انقلاب کے طور پر اٹھا. یہ مذہب، تناسخ (آواگون) کے ذریعے بار بار پیدا ہونے کے خوف پر مبنی ہے۔ اس کا ظہور چھٹی صدی قبل مسیح میں ہندوستان میں اس کے بانی’مہاویر جین‘ کے ہاتھوں ہوا۔ ’مہاویر‘ کے معنی ہیں ’عظیم بہادر‘۔ مہاویر کو لقب چوبیسویں تیرتھنکر (مصلح) کے لقب سے جانا جاتا ہے۔ یہ 599 قبل مسیح میں پیدا ہوا۔ اس کے خاندان کا تعلق چھتری طبقے سے تھا، جو امور سیاست سنبھالتا تھا۔ اس نے زہد و خلوت اور غور و فکر کا مرحلہ بچپن ہی سے طے کرنا شروع کر دیا تھا۔ مہاویر سترپوشی سے آزاد ایک سال تک شہر در شہر پھرتا رہا اور پھر اس نے اس مذہب کی طرف اپنی دعوت کا آغاز کیا۔ ’جین مت‘ کے عقائد و افکار میں سے کچھ یہ ہیں: 1۔ خالق کا انکار، ’مہاویر‘ کو الٰہ ماننا اور اسے اپنا معبود قرار دینا۔ یہ (بقیہ) 23 تیرتھنکروں کو بھی اسی درجے میں رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ہندو مذہب کے سب معبودوں کو بھی مانتے ہیں، ماسوا تین کے جو کہ برہما، وشنو اور شیو ہیں۔ 2۔ یہ تناسخِ ارواح کے قائل ہیں اور ’کرم‘ یعنی عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ ’کرم‘ ایک مادی وجود کا نام ہے، جو روح کے ساتھ مخلوط ہوکر اس کا احاطہ کرلیتا ہے۔ انسان تب تک پیدا ہوتا اور مرتا رہتا ہے جب تک کہ ’کرم‘ اس کی روح کے ساتھ متعلق رہتا ہے اور اس وقت تک اس کا نفس پاک نہیں ہوتا جب تک کہ وہ ’کرم‘ سے خلاصی نہیں پالیتا۔ 3۔ نجات (موکش)۔ اس کا مطلب غم اور درد سے پاک ابدی خوشی سے سرفراز ہونا ہے۔ نجات تک رسائی کا راستہ بھلائی کو اختیار کرنا اور برائیوں سے دور رہنا ہے۔ ان کے نزدیک نجات دلانے والے امور بہت سے ہیں جن میں صحیح عقیدہ، صحیح علم اور عورتوں سے کنارہ کشی وغیرہ شامل ہیں۔ 4۔ ان کے عقائد میں یہ باتیں بھی شامل ہیں: جذبات کو دبانا اور انھیں زائل کرنا، برہنہ رہنا، زندگی کی تمام بندشوں سے آزاد ہونے کی دعوت دینا اور خود کو بھوکا رکھ کر ایک سست رو خود کشی کا ارتکاب کرنا۔ 5۔ ’مہاویر‘ کے خطبات، اس کی نصیحتیں اور اس کی طرف سے دیے گئے جوابات جین دھرم کے پیروکاروں کے لیے مقدس مرجع ہیں۔ انھیں چھیالیس کتابوں میں جمع کیا گیا ہے۔ یہ ساری کتابیں سنسکرت زبان میں مدوّن ہیں۔ ان میں سب سے اہم کتاب’بارہ انگ‘ ہے۔ جین دھرم کے دو بڑے فرقے ہیں: 1۔ دگمبر (یا دگامبر): یعنی آسمانی پیرہن والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے آسمان کو اپنے لیے لباس بنا لیا اور درویشانہ طرز زیست کی طرف ان کا میلان ہے۔ 2۔ شویتامبر: یعنی سفید لباس والے۔ یہ عام معتدل لوگوں کا طبقہ ہے، جو ’جین مت‘ کے عام اصولوں پر عمل کرتے ہیں۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

جہمیہ - جَهْمِيَّةٌ

جَہمیہ: عقائد سے متعلق گمراہ فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے، جو اسلام کی طرف منسوب ہے۔ اس کا ظہور دوسری صدی ہجری میں عراق میں اس کے بانی جہم بن صفوان ترمذی کے ہاتھوں ہوا۔ جہم بن صفوان کے افکار کی بنیاد کلامی بدعتوں، گمراہ نظریات اور صحابۂ کرام کے عقیدے کے خلاف رائے پر قائم تھی۔ اس عقیدہ کے پھیلاؤ کا آغاز عراق سے ہوا، پھر خراسان میں پھیلا، پھر باقی مسلمانوں میں پھیل گیا اور اسے ایسے لوگ فراہم ہوگئے جو اس کا دفاع کرتے اور اس کے لیے کتابیں لکھتے تھے۔ علما نے جَہمیہ کو تین درجات میں تقسیم کیا ہے: پہلی درجہ: غالی جہمیّہ (انتہاپسند جہمیہ): یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات کا انکار کیا۔ جہمیّہ کا لفظ مطلق بولا جائے تو یہی قسم مراد ہوتی ہے۔ دوسرا درجہ: معتزلہ جہمیّہ جو اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کا انکار کرتے ہیں۔ تیسری قسم: وہ لوگ جو بعض صفات کو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں۔ جیسے اشاعرہ اور ماتریدیہ۔ جہمیّہ کے چند عقائد درج ذیل ہیں: 1- اللہ تعالیٰ کے تمام اسما و صفات کا انکار۔ 2- اعضا و جوارح کے عمل اور زبان کے قول کا ایمان سے اخراج اور یہ کہ ایمان صرف معرفت کا نام ہے۔ 3- بہت سارے اُخروی امور جیسے پل صراط، میزان اور اللہ کی رؤیت (دیدار) وغیرہ کا انکار کرنا۔ 4- ان کا کہنا ہے کہ قرآن مخلوق ہے۔ 5- جنت اور جہنم کے فنا ہو جانے اور ان کے باقی نہ رہنے کا عقیدہ۔ 6- مخلوق کو اپنے کاموں میں ارادہ اور اختیار حاصل نہیں ہے، بلکہ انسان اپنے تمام کاموں میں مجبورِ محض ہے۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

حروریہ - حَرُورِيَّةُ

حروریہ: خوارج کا ایک گروہ ہے، جس کے افراد علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے مخالف ہو گئے تھے اور انھوں نے ان کے خلاف مسلح بغاوت کی تھی۔ جب علی رضی اللہ عنہ نے اپنے اور معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ کے مابین تحکیم کو قبول کیا تھا، تو انھوں نے ان کی تکفیر کی تھی۔ انھیں یہ نام اس لیے دیا گیا، کیوں کہ صفین سے واپس لوٹنے پر یہ لوگ کوفہ کے قریب واقع ’’حروراء‘‘ نامی جگہ پر جمع ہوئے تھے اور پھر جب علی رضی اللہ عنہ کے مخالف ہوئے تھے، تو سب سے پہلے یہیں سے ان کا نعرۂ تحکیم بلند ہوا تھا اور اسی جگہ اکٹھا ہوئے تھے۔ انھیں ”اہلِ نہروان“ بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ علی رضی اللہ عنہ نے اس مقام پر ان سے جنگ کی تھی۔ اسی طرح انھیں ”المُحَكِّمة“ بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ ان کا نعرہ جس پر یہ جمع ہوئے تھے، وہ ”لاَ حُكمَ إلا لله“ تھا۔ اسی طرح انھیں ”النواصب“ کا نام بھی دیا گیا ہے، کیوں کہ انھوں نے علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے دشمنی اور بغض رکھا اور بہت سے سابقین اولین، بدری صحابہ وغیرہ سے براءت کا اظہار کیا۔ انھیں ”وعیدیہ“ بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہیں گے اور ان کے جان و مال کو وہ اپنے لیے حلال گردانتے ہیں۔ بعد ازاں اس اسم کا اطلاق ہر اس شخص پر ہونے لگا، جو ان کے فاسد مذہب کی پیروی کرتا اور ان کی غلط راہ پر چلتا ہو۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

خوارج - خوارج

خَوارِج: ایک گمراہ فرقہ، جس کا ظہور امیر المؤمنین علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوران سنہ37 ہجری میں جنگِ صفین کے بعد ہوا۔ ہوا یوں کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے دو افراد کو بطور حکم نامزد کرنے کی بات مان لی، تو ان لوگوں کو علی رضی اللہ عنہ کی یہ بات پسند نہ آئی اور ان پر غضب ناک ہوتے ہوئے انھیں کافر قرار دیا اور کہا کہ ’’لا حُكْمَ إلاّ للهِ‘‘ (یعنی اللہ کے سوا کسی کو فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے)۔ خوارج کے کئی فرقے ہیں، لیکن ان کے اہم گمراہ عقائد جن پر یہ سب متفق ہیں، یہ ہیں: 1۔ علی بن ابو طالب، عثمان بن عفان اور دونوں فیصلہ کنندگان رضی اللہ عنھم کی تکفیر کرنا۔ 2۔ فسق یا ظلم کا ارتکاب کرنے کے سبب مسلم حکمرانوں کے خلاف بغاوت کو واجب سمجھنا۔ 3۔ ان کا کہنا ہے کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب دنیا کے احکام میں کافر سمجھا جائے گا اور قیامت کے دن ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دیا گا۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

دینِ حنیفی - حنيفية

حنیفیت: اس سے مراد ابراھیم علیہ السلام کا دین ہے، جس پر اللہ نے اپنے بندوں کو پیدا فرمایا اور سب کو اس کی پابندی کا حکم دیا اور سب کے لیے اسے پسند کیا، جیساکہ ارشادِ باری تعالی ہے: {فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ} (پس آپ یکسو ہوکر اپنا منہ دین کی طرف متوجہ کردیں۔ اللہ کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کے بنائے کو بدلنا ممکن نہیں۔ یہی سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔) یہ محمدی عقیدہ ہے، جس کے سوا اللہ کسی اور سے کوئی اور عقیدہ قبول نہیں کرتا۔ یہ وہ اسلامی حقیقت ہے، جس کے لیے اللہ نےتمام رسولوں کو مبعوث کیا، جس میں اکیلے اللہ پر، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور آخرت کے دن پر ایمان لانا اور بتوں اور مورتیوں کی پوجا سے دور رہنا شامل ہے۔ ’حنیف‘ اس شخص کو کہتے ہیں، جو راہ راست پر قائم ہو، اسلام پر کاربند ہو، اللہ کی طرف متوجہ ہو اور اس کے علاوہ ہر کسی سے اعراض کرنے والا ہو۔ ’حنیفیت‘ سے کفار جیسے اہلِ کتاب وغیرہ خارج ہیں۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

حَشوِیّہ - حشوية

" حَشوِيَّہ " ایک ایسا لفظ ہے، جس کا شریعت، لغت اور عرف عام میں کوئی مدلول نہیں ہے۔ یہ محض ایک اصطلاح ہے، جس کے ذریعے گمراہ فرقے أهلِ سنت والجماعت پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ اس لفظ سے ان کی مراد یہ ہے کہ اہلِ سنت گھٹیا ترین اور گرے پڑے لوگ ہیں اور دین کے بارے میں وہ جو کچھ کہتے ہیں اس کا کوئی اعتبار نہیں؛ کیوں کہ وہ ان کے خیال میں گمراہ ہیں اور اسی وجہ سے وہ لوگوں کو ان سے متنفر کرتے ہیں۔ معتزلہ ان لوگوں کو حشوی کا نام دیتے ہیں جو تقدیر کو ثابت مانتے ہیں، جب کہ ’جہمیہ‘ صفات کا اثبات کرنے والوں کو حشویہ قرار دیتے ہیں۔ اور اسی طرح... ایک قول کی رو سے ’مُعَطلہ‘ اپنے قول " حشوية " سے یہ مراد لیتے ہیں کہ صفات کا اثبات کرنے والوں کا وجود حشو (بے کار) ہے اور یہ فضول لوگ ہیں۔ ان میں سے جو جاہل ہیں وہ حشو کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ صفات کا اثبات کرنے والے جب کہتے ہیں کہ ’’إنَّ اللهَ سبحانه في السّماءِ وفَوقَ خَلْقِهِ‘‘ تو اپنے اس قول کے ذریعے وہ بندوں کے رب کو کائنات سے بھر دیتے ہیں۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

روافض - رافضة

رافضہ: یہ ایک شیعی فرقہ ہے۔ اسے امامیہ، اثنا عشری اور جعفریہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس فرقے کے لوگوں کو رافضہ کا نام اس وقت دیا گیا، جب زید بن علی سے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں پوچھا گیا اور انھوں نے ان کے لیے رحمت کی دعا کی، تو کچھ لوگوں نے ان کی بات کو مسترد کر دیا۔ لہذا انھوں نے ان کو خطاب کرتے ہوئے کہا : ’’رفضتموني‘‘ (تم لوگوں نے میری بات مسترد کر دی)۔ پھر زید بن علی کی بات مسترد کرنے کی وجہ سے یہیں سے وہ رافضہ کے نام سے جانے جانے لگے۔ سب سے پہلے روافض کے عقائد کی دعوت جس شخص نے دی، وہ عبداللہ بن سبا نامی یمن کا ایک یہودی تھا۔ پہلے پہل روافض کا ظہور عراق میں ہوا اور پھر یہ پھیلتے گئے۔ جس ملک میں رافضیت سب سے زیادہ پھیلی، وہ ایران ہے۔ رافضيت کئی مراحل سے گزری۔ پہلے مرحلے میں عبداللہ بن سبا نے علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں غلو کی دعوت دی، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے بعد ان کے عقائد کا ظہور ہونا شروع ہوا اور بعد ازاں یہ کئی فرقوں میں بٹ گئے۔ ان کا عقیدہ زندیقیت، الحاد اور بت پرستی پر مشتمل ہے۔ ان کے کچھ نمایاں عقائد اس طرح ہیں: 1۔ ان کا عقیدہ ہے کہ قرآن تحریف شدہ ہے۔ 2۔ چند صحابہ کے علاوہ باقی سب کی تکفیر کرنا، انھیں سب و شتم کرنا اور ان سے بغض رکھنا۔ 3۔ اپنے ائمہ کو خطا و بھول چوک سے اور گناہ و معصیت سے معصوم سمجھنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ غیب کا علم رکھتے ہیں۔ 4۔ قبروں اور آستانوں کی تعظیم کرنا اور مردوں کو پکارنا۔ 5۔ تقیہ کا قائل ہونا، جس سے مراد روافض کے نزدیک یہ ہے کہ اہلِ سنت کے ساتھ جھوٹ اور منافقت پر مبنی رویہ روا رکھا جائے۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

سامری فرقہ - سامرة

سامرہ: ایک یہودی مذہبی گروہ، جو ’سفر یشوع‘ اور ’سفر قضاۃ‘ کے ساتھ صرف پانچ اسفار کو تسلیم کرتا ہے۔ اس گروہ سے وابستہ لوگوں کی تورات کا نسخہ یہودیوں کی تورات کے نسخے سے مختلف ہے۔ یہ دراصل شکیم میں سکونت اختیار کرنے والے لوگوں کا باقی ماندہ حصہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’قدس‘ شہر دراصل ’نابلس‘ ہے۔ چنانچہ یہ ’بیت المقدس‘ کو حرمت کی جگہ نہیں سمجھتے اور نہ ہی اس کی تعظیم کرتے ہیں۔ ان کا قبلہ ’غریزیم‘ نامی ایک پہاڑ ہے، جو بیت المقدس اور نابلس کے درمیان واقع ہے۔ یہ لوگ موسی اور یوشع علیہما السلام کے بعد بنی اسرائیل میں آنے والے ہر نبی کو جھٹلاتے ہیں۔ اس گروہ کی اصل بنیاد سلیمان علیہ السلام کی سلطنت کی دو سلطنتوں میں تقسیم پر قائم ہے: ایک شمالی سلطنت جس کا دار الحکومت ’سامرہ‘ تھا اور دوسری جنوبی سلطنت جس کا دار الحکومت ’یروشلم‘ تھا۔ یہ لوگ اپنے آپ کو ’شومریم‘ کا نام دیتے ہیں، جس کے معنی ہیں: شریعت کے پہرے دار۔ یہودیوں کے روایتی مصادر کی نظر میں یہ مخلوط النسل لوگ ہیں، جو خالص یہودی خون سے تعلق نہیں رکھتے۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

زیدیہ - زيدية

زیدیہ: ایک شیعی فرقہ، جو اپنے بانی زید بن علی زین العابدین کی طرف منسوب ہے، جو ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی امامت کی صحت کے قائل تھے۔ اس فرقے کے کسی فرد نے کسی ایک صحابی کی بھی کی تکفیر نہیں کی ہے۔ ان کے کچھ عقائد اس طرح ہیں: 1- افضل شخص کی موجودگی میں مفضول شخص کی امامت جائز ہے۔ کوئی بھی امام معصوم نہیں ہوتا اور نہ ہی ائمہ کے حق میں نبی ﷺ کی وصیت ثابت ہے۔ یہ لوگ نہ ہی رجعت کے قائل ہیں اور نہ ہی امامِ غائب (شیعوں کے مہدی منتظر محمد بن حسن عسکری) کو مانتے ہیں۔ 2- کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنے والا مؤمن ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ 3- یہ ظالم حکمرانوں کے خلاف خروج کو جائز قرار دیتے ہیں۔ 4- فاسق امام کے پیچھے نماز پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتے۔ 5- اللہ تعالیٰ کی ذات اور اعمال میں اختیار جیسے مسائل کے بارے میں وہ اعتزال کی طرف مائل ہیں۔ 6- نکاحِ متعہ کے بارے میں عام شیعوں سے اختلاف کرتے ہیں اور اسے ناپسند گردانتے ہیں۔ 7- زکاتِ خمس اور بوقتِ ضرورت تقیہ کے جائز ہونے میں عام شیعوں کی روش پر چلتے ہيں۔ زیدی بھی تین فرقوں میں بٹے ہوئے ہيں: 1- جارودیہ: یہ ابو الجارود زیاد بن منذر عبدی (متوفی 150 هـ) کے پیروکار ہیں۔ یہ لوگ علی رضی اللہ عنہ کی بیعت ترک کرنے کے دعوی کی بنیاد پر صحابۂ کرام کی تکفیر کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ نبی ﷺ نے وصف کے ذریعہ علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کی تنصیص کی ہے، تاہم نام لے کر صراحت نہیں کی ہے۔ 2- سُلیمانیہ: یہ سلیمان بن جریر زیدی کے پیروکار ہیں۔ انھیں ’جریریہ‘ بھی کہتے ہیں۔ اس فرقے کا عقیدہ ہے کہ امامت کی بنیاد شورائیت پر مبنی ہے اور یہ دو نیک مسلمانوں کے عقد سے صحیح ہوجاتی ہے۔ ان کا عقیدہ یہ بھی ہے کہ بعض وقت مفضول کی امامت بھی صحیح ہو سکتی ہے، اگرچہ فاضل شخص ہر حال میں افضل ہے۔ یہ شیخین یعنی ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کی صحت کے قائل ہیں، مگر انھوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں پیش آنے والے حادثات کی بنیاد پر ان کی تکفیر کی ہے۔ نیز یہ علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کرنے کی وجہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا، زبیر اور طلحہ رضی اللہ عنہما کے کفر کے بھی قائل ہیں۔ یہ لوگ رافضی شیعوں کے ’بَداء‘ اور ’تقیہ‘ جیسے عقائد کی وجہ سے انھیں طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں۔ 3- بَتْریّہ: یہ کثیرُ النواء (متوفی 169 ھ تقریباً) نامی ایک شخص کے پیروکار ہيں، جس کا لقب الأبتر تھا۔ امامت کے متعلق ان کا مذہب سلیمانیہ فرقے کے مذہب جیسا ہی ہے، تاہم یہ عثمان رضی اللہ عنہم کی فضیلت میں وارد نصوص کا ان کی طرف منسوب حادثات سے متعارض ہونے کی وجہ سے اُن کے کفر کے بارے میں توقف اختیار کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ قاتلینِ عثمان کی تکفیر میں بھی توقف کرتے ہیں۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

سکھ - سيخ

سِکھ لفظ کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے، جو اس عقیدے پر ایمان رکھتے ہیں، جو دراصل ہندومت اور برہمنی مذہب سے ماخوذ ہے۔ سکھ کے معنی ہیں مرید یا پیروکار۔ اس لفظ کا استعمال اس لیے شروع ہوا، کیوں کہ سکھ لوگ دس معلمین (گرووں) کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ ایک ہندوستانی مذہبی گروہ ہے، جس کا ظہور پندرہویں صدی کے آخر اور سولہویں صدی عیسوی کے آغاز میں ہوا۔ اس کی بنیاد نانک نے رکھی تھی، جسے گرو یعنی معلم کہا جاتا ہے۔ نانک کی پیدائش 1469ء میں رائے بھوئی کی تلونڈی نامی ایک بستی میں ہوئی تھی، جو کہ لاہور سے 40 میل کے فاصلے پر ہے۔ سکھ ایک نئے دین کی طرف بلاتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس میں اسلام اور ہندومت دونوں کی کچھ نہ کچھ تعلیمات موجود ہیں۔ ان کا مذہبی نعرہ ”نہ ہندو اور نہ مسلمان“ تھان۔ یہ ایک خالق کے عقیدے کی طرف دعوت دیتے ہیں، بتوں کی پوجا کو حرام سمجھتے ہیں اور لوگوں کے مابین مساوات کے داعی ہیں۔ اسی طرح یہ شراب نوشی اور خنزیر کھانے کو جائز اور ہندوؤں کی موافقت میں گائے کو حرام قرار دیتے ہیں۔ ان کا ایک مقدس شہر ہے، جہاں یہ اپنے اہم اجتماعات کا انعقاد کرتے ہیں۔ یہ پنجاب کا شہر امرتسر ہے، جو کہ تقسیم ہند کے بعد ہندوستان کے حصے میں آیا ہے۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

صہیونیت - صهيونية

’صہیونیہ‘ ایک یہودی نسل پرست سیاسی تحریک اور تنظیم ہے، جو عقائد کے اعتبار سے یہودیوں سے ملتی ہے۔ اس کی فکر اور عقائد یہودیوں کی تحریف شدہ مقدس کتابوں سے ماخوذ ہیں، اس کا مقصد تمام یہودیوں کو فلسطین میں جمع کرنا، اسرائیل کی عظمت کو لوٹانے کے لیے بنائے گئے طے شدہ منصوبوں کو پورا کرنا، ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر، مملکت اسرائیل کا قیام اور بعدازاں سارے عالم پر تسلط جمانا ہے۔ ’صہیونیت‘ نے اپنے افکار کو ’صہیونیت کے دانا بزرگوں کی دستاویزات‘ میں درج کر رکھا ہے۔ یہ دراصل کچھ فیصلے ہیں، جو یہودی منصوبہ سازوں نے 1897ء میں سوئیزر لینڈ کے شہر ’بازل‘ میں منعقدہ ایک کانفرنس میں لیے تھے۔ ان افکار و عقائد کے کچھ حصے اس طرح ہیں: 1۔ صہیونیت ساری دنیا کے یہودیوں کو ایک قوم یعنی یہودی قوم کے افراد تصور کرتی ہے۔ 2۔ اس تحریک سے وابستہ لوگوں کا مقصد یہودیوں کی حکومت قائم کرنا اور تمام دنیا پر ان کا تسلط جمانا ہے۔ 3۔ یہودیوں کے خاص الٰہ کا نام ’یَہوہ‘ ہے۔ 4۔ یہ موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے، جزا اور جنت و دوزخ کا انکار کرتے ہیں۔ 5۔ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ یہودی ہی وہ ممتاز عنصر ہیں، جسے حکومت کرنا چاہیے اور دیگر ساری قومیں ان کی خدمت گزار قوموں کی حیثیت رکھتی ہیں۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

سیکولرزم - عِلْمانِيَّةُ

سیکولرازم: ایک ایسا نظریہ، جس کا مقصد زندگی کےتمام شعبوں جیسے سیاسی، اقتصادی، سماجی اور فکری شعبوں میں لوگوں کی توجہ آخرت سے ہٹا کر صرف دنیا پر مرکوز کرنا ہے۔ اس کا ظہور سترہویں صدی میں یورپ کےاندر ہوا۔ اس کے ظہور کا سب سے اہم سبب چرچ کا ظالمانہ رویہ تھا، چاہے یہ ظلم دین سے متعلق ہو بایں طور کہ کنیسہ نے صحیح دین میں تحریف کردی، اللہ کی حلال کردہ اشیا کو حرام کردیا اورحرام کردہ اشیا کو حلال ٹھہرا دیا، یا پھر یہ مالی ظلم ہو بایں طور کہ انھوں نے مال و دولت کے حصول کو ممنوع قرار دے دیا اور لوگوں پر مختلف طرح کے ٹیکس عائد کردیے جیسا کہ تحریف شدہ انجیلوں میں آیا ہے۔ سیکولرزم کے تین ستون ہیں: اول: انسانی توجہ کو صرف دنیا میں محدود کردینا اور زندگی میں مذہب کی حیثیت کو پیچھےکردینا؛ تاکہ وہ انسان کی ذاتی سرگرمیوں میں سے ہو جائے۔لیکن آخرت کی زندگی چونکہ ایک ماورائے طبیعت شے ہے اس لیے اسے مادی زندگی اور اس کے محسوس قوانین میں اثرانداز ہونے سے یکسر دور رہنا چاہیے۔ دوم: علم، اخلاق اور سوچ کو مذہب کی تعلیمات کی تعمیل کرنےسےدوررکھنا۔ سوم: غیر مذہبی بنیاد پر سیاسی اداروں پرمشتمل ریاست قائم کرنا۔علمانیت (سیکولرزم)کے کچھ افکار و عقائد یہ ہیں: 1- سیاست اور زندگی سے مذہب کی علاحدگی۔ 2۔ فحاشی اور اخلاقی انارکی کو فروغ دینا،خاندان کی بنیاد کو تباہ کرنااورخواتین کی آزادی جس کا مقصد اسے شرعی احکام سے دست بردار کرنا اور ماکرانہ طریقوں سے اسے اس میں دھکیل دینا ہے۔ 3۔ ان کا خیال ہے کہ اسلام تہذیب وتمدن سے مطابقت نہیں رکھتا اور پسماندگی کی دعوت دیتا ہے۔ 4۔ ان میں سے کچھ لوگ تو سرے سے اللہ کے وجود ہی کے منکر ہیں۔ سیکولرازم ایک گمراہ کن لفظ ہے، جو چرچ پر علم کی فتح کا اشارہ دیتا ہے، جس نے مذہب کے نام پر ترقی کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔ مغرب نے لوگوں کی توجہ آخرت سے ہٹانے کے لیے اسے ایجاد کیا ہے، جب کہ علم سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ سیکولرازم دین کو ریاست سے الگ کرنے کے نکتے پر عیسائی مذہب کے ساتھ متفق ہے، جو یہ سمجھتا رہا ہے کہ ریاستی امور قیصر کے ہاتھ میں ہونے چاہییں اور چرچ کا اختیار اللہ کے ہاتھ میں۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، تو اسلام میں مذہب اور علم کے مابین کوئی تنازعہ یا تصادم نہیں ہے؛ بلکہ اسلام مفید اور نفع بخش علم کی طرف بلاتا ہے اور اس کی ترغیب دیتا ہے۔ نیز اسلام ہر دور، ہر معاشرہ اور ہر جگہ نافذ العمل ہونے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔ سیکولرازم کی تعریف میں کوئی اتفاق بھی نہیں ہے۔ بات چاہے فکری اعتبار سے ہو یا عملی واقعیت کے اعتبار سے، ہر جگہ اختلاف موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیکولرازم کو چرچ کے تصور کے مطابق قرون وسطی میں رائج مذہبی ریاست کے مخالف ماڈل کے طور پر جانا جاتا تھا۔ بعض لوگوں نے سیکولرازم کی اصطلاح کو مذہب یا چرچ کو ریاست سے الگ کرنے کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد کسی بھی ایسے شرعی قانون یا دینی نفوذ کو مسترد کرنا ہے، جو کسی فرد کی زندگی میں مداخلت کرے۔ جب کہ بعض لوگوں نے غلو سے کام لیتے ہوئے اسے دین اور دین پسندی کے متضاد معنی میں استعمال کیا ہے۔ اسی کو انتہا پسند سیکولرازم کہا جاتا ہے۔ مغربی ممالک کے اندر سیکولرازم کی تطبیق میں بھی اختلاف موجود ہے۔ فرانس کا سیکولرازم برطانیہ کے سیکولرازم سے مختلف ہے۔ اسی طرح امریکہ کا سیکولرازم دیگر ملکوں کے سیکولرازم سے الگ ہے۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

قرامطہ - قَرَامِطَة

اس تحریک کا بانی حمدان بن اشعث کا لقب ’قرمط‘ اس لیے پڑا، کیوں کہ وہ پستہ قد اور چھوٹی پنڈلیوں والا تھا۔ وہ اہواز کے خوزستان کا رہنے والا تھا۔ بعد میں کوفہ چلا گیا۔ اس تحریک نے خفیہ فوجی تنظیم کا راستہ اپنایا تھا۔ بظاہر یہ تحریک آل بیت کی حمایت کرتی اور محمد بن اسماعیل بن جعفر صادق سے نسبت رکھتی تھی، لیکن درحقیقت الحاد، فحاشی، اخلاقی اقدار کی پامالی اور اسلامی ریاست کے خاتمہ کا ارادہ رکھتی تھی۔ قرمطہ لفظ کے ایک معنی نصوص ميں تحريف کے ذریعے ان کی غلط تاویل کرنے اور باطل معانی کا جامہ پہنانے کے بھی ہیں۔ یہ تحریف چاہے لفظ کی ہو یا معنی کی یا لفظ اور معنی دونوں کی۔ دراصل اس عمل کو قرمطہ، حمدان بن قرمط کی پیروی کرنے والے باطنی فرقہ قرامطہ کی جانب نسبت کی وجہ سے کہا جاتا ہے، جو معلوم و معروف نصوص کی تحریف کرتے ہوئے انھیں غلط معانی پہناتا ہے۔ جیسے کہ اس فرقے سے وابستہ لوگ نماز کے معنی میں تحریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کے معنی ان کے اسرار کو جاننے کے ہيں، روزے سے مراد ان کے اسرار کو چھپانا ہے اور حج سے مراد ان کے شیوخ کی زیارت کرنا ہے۔ یہی حال وہ دیگر عبادتوں کا بھی کرتے ہیں۔ اس بنا پر اسما و صفات کے باب میں بدعت کی روش اپنانے والے متکلمین بھی قرامطہ کے مشابہ ہیں، جنھوں نے اسما و صفات سے متعلق نصوص کی تاویل کر ڈالی اور انھیں ان صحیح معانی سے ہٹا دیا، جن کے لیے یہ وارد ہوئی تھیں اور اپنی جانب سے ان کے فاسد معانی متعین کر دیے۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

ماتریدیہ - ماتريدية

’ماتریدیہ‘ عقائد کے باب میں راہ صواب سے منحرف گروہوں میں سے ایک گروہ ہے، جو عقیدے کے اثبات اور مخالفین کی تردید کرنے میں اہلِ کلام کا طریقۂ کار اپناتے ہیں۔ اس گروہ کا ظہور چوتھی صدی ہجری میں ہوا۔ یہ محمد بن محمد ماتریدی سمرقندی کی طرف منسوب ہے، جس کی وفات 333 ہجری میں ہوئی۔ ماتریدی گروہ درج ذیل چار مراحل سے گزرا ہے: 1۔ تاسیسی مرحلہ: اس میں معتزلہ کے ساتھ بہت زیادہ مناظرے ہوئے۔ 2۔ تکوینی مرحلہ: یہ ابومنصور ماتریدی کے شاگردوں کا مرحلہ ہے۔ 3۔ ماتریدی عقائد کے اصول و قواعد کے وضع اور تصنیف و تالیف کا مرحلہ: یہ مرحلہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں بہت زیادہ تالیفات وجود میں آئیں اور ماتریدی عقیدے کے دلائل کو جمع کیا گیا۔ 4۔ وسعت واشاعت کا مرحلہ: اس مرحلے میں یہ ترک ممالک، افغانستان اور ہندوستان وغيره ميں پھيل گيا۔ ماتريديوں کے کچھ عقائد اس طرح ہیں: 1۔ یہ لوگ عقل کو کتاب و سنت پر مقدم رکھتے ہیں۔ 2۔ اللہ کی صرف آٹھ صفات کا اثبات کرتے ہیں، جو کچھ اس طرح ہیں: حیات، قدرت، علم، ارادہ، سمع، بصر، کلام اور تکوین۔ 3۔ ان کا کہنا ہے کہ ایمان صرف تصدیقِ قلب کا نام ہے۔ یہ ایمان میں زیادتی و کمی کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ 4۔ توحید سے یہ صرف توحید ربوبیت مراد لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے ’الہ‘ کی تفسیر میں ان کا کہنا ہے کہ اس سے مراد وہ ذات ہے، جو اختراع پر قادر ہے۔ 5۔ یہ عقیدہ کے باب میں حدیثِ آحاد کو حجت نہیں مانتے۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

ماسونیت - ماسونية

’ماسونیت‘ ایک خُفیہ عالمی تنظیم ہے، جس کی بنیاد روم کے بادشاہ ہیروڈس اکریبا (متوفی سنہ 44ء) نے چند یہودی صلاح کاروں کی مدد سے رکھی۔ اُس وقت اس کا نام ’’مخفی قوت‘‘ تھا۔ کئی صدیاں گزرنے کے بعد اس کا نام ’’ماسونیت‘‘ رکھ لیا گیا، تاکہ آزاد معماران یونین کو بینر بناکر اس کے ماتحت کام کر سکے۔ بعد میں یہی نام اس کی پہچان بن گيا۔ یہ تنظیم سدا اپنی اصلیت کو فریب کُن شعارات (نعروں) جیسے آزادی، بھائی چارہ، مساوات اور انسانیت کی آڑ میں چھپاتی رہی ہے۔ ماسونیت یہودیوں کی سربلندی اور پوری دنیا پر ان کا غلبہ قائم کرنے کے لیے کوشاں رہی ہے۔ اسی لیے بڑے بڑے یہودی ماسونیت کے کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔ ان کے خاص رموز واشارات بھی ہیں، جن کے ذریعہ وہ باہم معاملات کرتے ہیں۔ ماسونیت کے نمایاں معتقدات اور افکار میں سے کچھ یہ ہیں: 1- یہودیت کے سوا سارے ادیان کو کفر والحاد کی دعوت دینا۔ 2- نیک اصولوں اوراخلاق فاضلہ کو مکمل تباہ کرنا، بُری قدروں اور بُرائیوں جیسے زناکاری اور شراب نوشی وغیرہ کو فروغ دینا۔ 3- پوری دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے جنسی اباحیت کو فروغ دینا اور عورت کو بطور وسیلہ استعمال کرنا۔ 4- مختلف ملکوں کی دستوری حکومتوں کو گرانے اور قومی نظام حکمرانی کو کالعدم قرار دینے اور ان پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کام کرنا۔ 5- انارکی اور فتنہ فساد برپا کرنے کے لیے کام کرنا اور غیر یہودیوں کو مختلف قوموں اور چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بانٹنا، تاکہ وہ ہمیشہ باہم دست و گریباں رہیں۔ 6- جھوٹی و بے بنیاد خبریں پھیلانا اور دسیسہ کاری وپروپیگنڈہ کرنا۔ 7- بچوں کی تربیت سے ماں باپ کو الگ کرنے کی دعوت دینا، مسلمانوں میں اختیاری بانجھ پن اور ضبط تولید (برتھ کنٹرول) کا رجحان پیدا کرنا۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

فرقۂ نصیریہ - نصيرية

نصیریہ: یہ ایک گمراہ ترین باطنی فرقہ ہے، جس میں حد درجہ انحراف اور شذوذ پایا جاتا ہے۔ یہ فرقہ ابو شعیب محمد بن نصیر النمیری کی طرف منسوب ہے، جس کی وفات 270 ہجری میں ہوئی تھی۔ اس فرقے کی جڑیں میمون القداح الدیصانی کے ساتھ جا ملتی ہیں، جو ایک فارسی یہودی تھا۔ یہ نظریۂ شعوبیت کے رجحانات كا حامل تھا، جس کا مقصد اسلام کو منہدم کرنا اور فارسیوں کے اثر و رسوخ کو بحال کرنا تھا۔ اس فرقے سے وابستہ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ علوی ہیں، جو کہ شیعیان علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ میں سے ہیں۔ لہذا آخر میں انھوں نے علوی نام رکھ لیا، تاکہ اپنی سیاہ تاریخ کو چھپا سکیں اور اس پر پردہ ڈال سکیں۔ اس فرقے کے کچھ عقائد اس طرح ہیں: علی رضی اللہ عنہ کے لیے الوہیت کا دعویٰ، تناسخ ارواح کا قائل ہونا، محارم اور حرام اشیا کو مباح کرلینا، بعث بعد الموت اور حساب و کتاب کا انکار کرنا، نیز تمام عبادتوں کے متعلق ایسی تاویلات کرنا جو کہ عقل وفہم، لغت اور دین کے منہج سے بعید تر ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس فرقے کی کچھ باقی ماندہ افراد آج بھی ملک شام میں حمص، لاذقیہ اور حلب کے درمیان اور شمالی حلب میں موجود ہیں۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

ناصبی فرقے کے لوگ - نواصب

’نواصب‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اہلِ بیت سے عداوت رکھتے ہیں، انھیں اذیت پہنچاتے ہیں اور انھیں طعن وتشنیع اور سب و شتم کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے فاسد عقائد میں سے ایک یہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ و ارضاہ سے بغض رکھنا دین کا حصہ ہے۔ ان کی بدبختی یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کو فاسق کہتے ہیں، انھیں ظالم بتاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ دنیا کے طالب اور خلافت کے اس درجہ خواہاں تھے کہ اس کے لیے تلوار اٹھا لی۔ نیز ان کا یہ عقیدہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ اپنی جنگوں میں حق بجانب نہیں، بلکہ خاطی تھے۔ نصب یعنی اہل بیت یا ان کے علاوہ دیگر صحابہ سے بغض رکھنا ان عظیم بدعتوں میں سے ایک ہے، جو اس دین کی تنقیص کا سبب بنتی ہیں، جو صحابہ اور دیگر صحابہ کے توسط سے ہمیں حاصل ہوا ہے۔ اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ نواصب اور روافض کے مابین وسطیت کا راستہ ہے۔ اہلِ سنت رسول اللہﷺ کے اہل بیت سے محبت اور ان سے دوستی رکھتے ہیں اور روافض کے طریقۂ کار سے اظہارِ براءت کرتے ہیں، جو صحابہ سے بغض رکھتے ہیں اور انھیں گالیاں دیتے ہیں۔ اسی طرح یہ نواصب کے طریقے سے بھی اظہارِ براءت کرتے ہیں، جو اہلِ بیت کو اور خود ان کو بھی تکلیف دیتے ہیں۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

وسطیت ،اعتدال ۔ - وسطية

اعتقاد و عبادات اور ان کے مسائل کے تمام ابواب میں بغیر کسی افراط و تفریط یا غلو و بے رخی کے میانہ روی اختیار کرنا۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

سَنُّوسی تحریک، سنوسیت - سَنُوسِيَّةُ

ایک صوفی سلسلے سے متاثر اسلامی دعوتی تحریک جس کی بنیاد محمد بن علی السنوسی الادریسی نے رکھی جس کی وفات 1859 عیسوی میں ہوئی۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

فرقۂ کلابیہ - كُلّابِيَّةُ

متکلمین کا ایک فرقہ جو عبداللہ بن سعید بن کُلاّب کی طرف منسوب ہے، جو اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن مجید اللہ کے کلام کی حکایت ہے اور ایمان تصدیق اور زبان کے قول کا نام ہے، اور وہ نہ بڑھتا ہے اور نہ کم ہوتا ہے۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

فرقۂ کرّامیہ - كرامية

مرجئہ کے فرقوں میں سے ایک فرقہ جو محمد بن کرّام کے پیرو ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ایمان صرف قول باللسان (زبانی اقرار) کا نام ہے، اور اس میں کمی بیشی نہیں ہوتی ہے، اور یہ کہ انبیا علیہم الصلاۃ والسلام تمام چھوٹے اور بڑے گناہوں میں جان بوجھ کر اللہ کی نافرمانی کر سکتے ہیں۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان

فرقۂ نجدات - نجدات

خوارج کا ایک فرقہ جو نجدہ بن عامر حَنَفی کے پیروکار ہیں، لیکن ان کا عقیدہ ہے کہ فاسق کفرِ نعمت کے طور پر کافر ہے نہ کہ کفرِ شرک کے طور پر، ساتھ ہی وہ ظالم حکمراں کے خلاف خروج کرنا جائز سمجھتے ہیں، علاوہ ازیں ان کے دیگر عقائد بھی ہیں۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اردو انڈونیشیائی زبان روسی زبان

فرقہ نجّاریہ - نجارية

غالی مرجئہ کا ایک فرقہ جو کہ حسین بن محمد النجّار کے پیرو ہیں جن کا یہ کہنا ہے کہ ایمان تصدیق کا نام ہے جو بڑھتا ہے لیکن کم نہیں ہوتا نیز اللہ تعالی کی صفات اور جنت میں مومنوں کی رؤیت باری تعالی کے منکر ہیں۔

میں ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی اردو انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان